وینزویلا کے صدر کی گرفتاری اور ایران میں امریکی پائلٹ کا ریسکیو آپریشن؛ سی آئی اے کی اپنی ٹیکنالوجی نے اہم کردار ادا کیا
واشنگٹن: امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے (CIA) نے دنیا بھر میں اپنے جاسوسی کے جال اور جنگی طریقوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال میں تیزی لانے کا بڑا اعلان کیا ہے۔
سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ ایجنسی اب کوانٹم کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور جدید ترین ٹیکنالوجیز کو اپنے روزمرہ کے خفیہ آپریشنز کا حصہ بنانے کے عمل کو تیز کرے گی، کیونکہ یہ ٹیکنالوجیز دنیا بھر میں معلومات اکٹھی کرنے اور جنگ کے روایتی طریقوں کو تیزی سے بدل رہی ہیں۔
جان ریٹکلف کا کہنا تھا کہ سی آئی اے ایک طویل عرصے سے دنیا کے مختلف ممالک میں کام کرنے والے اپنے خفیہ اہلکاروں اور ایجنٹوں کی حفاظت اور مدد کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی آلات استعمال کرتی آ رہی ہے۔
انہوں نے ایجنسی کی حالیہ کامیابیوں کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کا معاملہ ہو یا پھر اپریل کے شروع میں ایران کے اندر مار گرائے گئے ایک امریکی طیارے کے پائلٹ کو بچانے کا حساس آپریشن، ان دونوں بڑے واقعات میں سی آئی اے کی جدید ترین ٹیکنالوجی نے انتہائی اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
سی آئی اے کے سربراہ نے امریکی جاسوسی نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایک نئے اور مخصوص شعبے کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ نیا ڈیپارٹمنٹ خاص طور پر سائبر سیکیورٹی، نیٹ ورک کی حفاظت اور جدید ڈیٹا کے تجزیے پر پوری توجہ مرکوز کرے گا۔
اس کے ساتھ ہی نئیپالیسیوں کے تحت ایک بڑا فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ پہلے ایجنسی میں کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کو ٹیسٹ کرنے اور باقاعدہ اپنانے میں تقریباً تین سال کا ایک طویل عرصہ لگ جاتا تھا، لیکن اب اس دورانیے کو واضح طور پر کم کر کے صرف 6 ماہ کر دیا جائے گا تاکہ سی آئی اے دنیا کی دیگر ایجنسیوں کے مقابلے میں ڈیجیٹل محاذ پر ہمیشہ آگے رہے۔

