مہاجرین کی قربانیاں سب سے زیادہ، انہیں اسمبلی کی نشستوں سے محروم کرنا درست نہیں؛ وزیر دفاع خواجہ آصف
اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے آزاد جموں و کشمیر میں جاری سیاسی کھینچ تان اور حالیہ کشیدگی پر اپنا دوٹوک مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بحران سے جلد از جلد پرامن طریقے سے نکلنے کے حق میں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی قربانیاں بے شمار ہیں؛ انہوں نے پاکستان اور کشمیر دونوں کے لیے اپنی جانیں اور گھر بار نچھاور کیے، اس لیے قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کو ختم کرنا یا انہیں اس حق سے محروم کرنا بالکل غلط عمل ہوگا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اگر اس معاملے کو سلجھانے کے لیے بات چیت اور ثالثی کی پیشکش کی ہے اور وہ کوئی پائیدار لائحہ عمل نکالتے ہیں، تو یہ ایک بہت اچھی بات ہوگی اور ہم اس کا دل سے خیرمقدم کریں گے۔
وزیر دفاع نے کشمیریوں کی تاریخ اور ان کے کردار کو تین الگ حصوں میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیریوں کو تین حوالوں سے جانتے ہیں۔
پہلے نمبر پر وہ بہادر کشمیری ہیں جو گزشتہ 75 سال سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سامنا کر رہے ہیں اور مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں، جن کی پاکستان سے محبت بے مثال ہے۔ دنیا کی کسی بھی آزادی کی مہم میں مقبوضہ وادی کے کشمیریوں کی قربانیاں سب سے آگے ہیں۔
دوسرے نمبر پر وہ لوگ ہیں جنہوں نے تقسیمِ ہند کے وقت اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان ہجرت کی، جو قربانی کے لحاظ سے دوسرے درجے پر آتے ہیں اور آج انہی مہاجرین کی سیٹوں کو متنازع بنایا جا رہا ہے جو کہ افسوسناک ہے۔
خواجہ آصف نے تیسری کیٹیگری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں موجودہ آزاد کشمیر کے رہنے والے لوگ آتے ہیں جن کی اپنی الگ شناخت اور قربانیاں ہیں، لیکن پہلی دو اقسام کے کشمیریوں کی بڑی قربانیوں کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ میرا اپنا نقطہ نظر یہ ہے کہ 1947 کے بعد سے جتنی جانیں وادی اور مقبوضہ کشمیر میں دی گئیں، اتنی یہاں نہیں دی گئیں، کیونکہ موجودہ آزاد کشمیر کے رہنے والوں کو ایک طرح سے گھر بیٹھے ہی آزادی مل گئی تھی۔
اپنی بات کی وضاحت کے لیے انہوں نے پنجاب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے تقسیم کے وقت بھارتی پنجاب سے لاکھوں لوگ یہاں آئے اور قربانیاں دیں، تو سیالکوٹ کے مقامی شہری ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ ان مہاجرین کا حق مجھ پر اور میرے خاندان پر زیادہ ہے، کیونکہ ہمیں بیٹھے بٹھائے آزادی ملی جبکہ وہ سب کچھ لٹا کر آئے۔
اسی طرح جو لوگ مقبوضہ کشمیر میں آج بھی جنگ لڑ رہے ہیں یا وہاں سے ہجرت کر کے آئے، اسمبلی میں ان کا استحقاق زیادہ ہے۔
انہوں نے آخر میں دہرایا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کی ثالثی سے متعلق قومی اسمبلی کے فلور پر بھی بیان دے چکے ہیں، اگر تمام فریق ان کی بات ماننے پر تیار ہو جائیں تو وہ خود بھی اس فیصلے کی پوری حمایت کریں گے۔

