مہاجرین کی 12 نشستوں کا خاتمہ جائز مطالبہ، اسمبلی میں بحث ہونی چاہیے؛ وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور

مظفر آباد: آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں مہاجرین کی مخصوص تزویراتی نشستوں کے حوالے سے ایک نیا آئینی و سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے ایک اہم ترین بیان میں واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ ایک بامعنی اور سنجیدہ بحث کا متقاضی ہے، اور اس حساس معاملے پر تفصیلی گفتگو کے لیے موزوں ترین اور آئینی جگہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی ہے۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ مہاجرین کی ان نشستوں کا خاتمہ کوئی شکوہ یا گلہ نہیں بلکہ ایک جائز تزویراتی مطالبہ ہے، کیونکہ ان نشستوں کی موجودہ سیاسی و انتظامی حیثیت اب کسی بھی صورت ناقابلِ قبول ہو چکی ہے۔

وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے احتجاجی دھڑوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اپنے جائز سیاسی حقوق حاصل کرنے کا بہترین طریقہ صرف سیاسی جدوجہد اور پارلیمانی راستے ہیں، نہ کہ سڑکوں پر احتجاج یا ہنگامہ آرائی کرنا۔

دوسری جانب، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور چوہدری طارق فضل چوہدری نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کے اس بیان پر وفاقی حکومت اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کا مؤقف پیش کرتے ہوئے سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کے پاس اس حوالے سے کوئی نئی رائے، فارمولا یا تزویراتی خاکہ موجود ہے تو وہ ابھی تک وفاق یا مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ساتھ باضابطہ طور پر شیئر نہیں کیا گیا، اور حکومت محض سوشل میڈیا پر چلنے والی رپورٹس اور بیانات پر اپنی حتمی رائے قائم نہیں کر سکتی۔

وفاقی وزیر نے قانونی پوزیشن واضح کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی یہ 12 نشستیں فی الفور یا کسی انتظامی حکم نامے کے ذریعے ختم نہیں کی جا سکتیں، کیونکہ اس عمل کے لیے باقاعدہ ایک آئینی ترمیم (Constitutional Amendment) درکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر مستقبل میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد آنے والی نئی اسمبلی کوئی متفقہ فیصلہ کرتی ہے تو وہ آئین میں ترمیم کر کے ان نشستوں کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے، تاہم موجودہ پوزیشن کے مطابق یہ 12 نشستیں ابھی پوری طرح بحال ہیں اور آئندہ بھی الیکشن تک مکمل بحال رہیں گی۔