کراچی رینجرز کیمپ حملہ؛ افغان ناظمِ الامور دفترِ خارجہ طلب، ڈیمارش جاری

اسلام آباد: کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر ہونے والے حالیہ بزدلانہ دہشت گردانہ حملے میں افغان پناہ گزینوں اور افغان شہریوں کے براہِ راست ملوث ہونے کے مہیب اور ناقابلِ تردید شواہد سامنے آنے کے بعد حکومتِ پاکستان نے افغان طالبان انتظامیہ کے خلاف انتہائی سخت اور تزویراتی سفارتی ایکشن لیا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، وزارتِ خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے ناظمِ الامور (Charge d’Affaires) کو ہنگامی طور پر دفترِ خارجہ طلب کیا اور ان کے سامنے کراچی حملے کے حوالے سے ریاستِ پاکستان کا شدید ترین احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے انہیں ایک باضابطہ اور سخت ترین سفارتی ڈیمارش (Demarche) تھما دیا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اسی نوعیت کا مہیب اور سخت احتجاج کابل میں موجود پاکستان کے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی نے بھی افغان وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ہنگامی ملاقات کر کے وہاں باضابطہ احتجاجی مراسلہ پہنچا کر ریکارڈ کرایا ہے۔

یہ انتہائی قدم اس حقیقت اور تزویراتی شواہد کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے کہ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے تین خوارج کو جہنم واصل کیا تھا جبکہ عثمان علی نامی ایک انتہائی خطرناک افغان حملہ آور کو موقع سے زندہ اور زخمی حالت میں گرفتار کر لیا تھا، جس نے دورانِ تفتیش افغانستان سے آپریٹ ہونے والے نیٹ ورک اور تربیت کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کراچی حملے کے تانے بانے کابل اور جلال آباد سے ملنا اور اس سنگین واردات میں افغان شہریوں کا باقاعدہ ملوث ہونا ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے اس دیرینہ اور اصولی مؤقف کی زندہ تصدیق کرتا ہے کہ افغان سرزمین اور افغان شہری مسلسل پاکستان کے اندر مہیب دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، فنڈنگ، لاجسٹک سپورٹ اور ان پر عمل درآمد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

پاکستان نے ڈیمارش کے ذریعے افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے اپنے وعدوں کے مطابق فی الفور مؤثر ترین اور عملی کارروائی کرے اور پاکستان کے سیکیورٹی تحفظات کا انتہائی سنجیدگی سے نوٹس لے، بصورتِ دیگر پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔