ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم پر ملکی و بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی کارروائی کا حکم

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عدلیہ اور سپریم کورٹ کو ایک تاریخی اور انتہائی اہم تزویراتی حکم جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئیں دو حالیہ جنگوں کے دوران ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور جنگی جرائم پر ملکی اور بین الاقوامی عدالتوں میں فوری قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، ایرانی سپریم لیڈر نے یہ فیصلہ کن حکم ’ہفتہ عدلیہ‘ کے دوران آیت اللہ بہشتی کی برسی کے موقع پر عدالتی حکام کے ایک اعلیٰ سطحی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پوری ایرانی قوم اس وقت جن اہم قانونی اور عدالتی مسائل کا سامنا کر رہی ہے، ان میں بین الاقوامی مجرموں، متکبر اور جارح قوتوں کی جانب سے پامال کیے گئے قوانین کی بحالی اور ان کا کڑا محاسبہ کرنا شامل ہے۔

آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ محض انفرادی قانونی معاملات تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں غیر ملکی جارح قوتوں کی جانب سے کیے گئے بھیانک جرائم کے خلاف ملک کے اجتماعی اور قومی حقوق کا مدافعت پر مبنی دفاع بھی شامل ہے۔

انہوں نے ایرانی عدلیہ کو اس کی کلیدی اور آئینی ذمہ داریاں یاد دلاتے ہوئے کہا کہ عوام کے حقوق کا تحفظ، قانونی آزادیوں کی بحالی، کرپشن کا سدِباب، انصاف کا بول بالا اور قانون پر عمل درآمد کی نگرانی کرنا عدلیہ کے بنیادی فرائض ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی جرائم اور جارحیت پسندوں کی جانب سے خاص طور پر گزشتہ ایک برس سے ہونے والی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں پر عالمی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا اب وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سپریم لیڈر نے اپنے بیان میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جون 2025 اور فروری 2026 میں مسلط کی جانے والی دو جنگوں کے دوران بے گناہ شہید کیے گئے شہریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور اس کے عوام کو ملک کے اندر اور بیرونِ ملک پہنچنے والے جسمانی، نفسیاتی، مالی اور روحانی نقصانات ایسے ٹھوس اور مصدقہ شواہد فراہم کرتے ہیں جن کی بنیاد پر سیکڑوں بلکہ ہزاروں اہم قانونی مقدمات قائم کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے میناب اور لامرد کے علاقوں کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں معصوم بچوں کی شہادتیں، طبی اور عوامی خدمات کے مراکز (ہسپتالوں) پر بمباری، اور نومولود بچوں سے لے کر بزرگوں کو نشانہ بنانا ایسے غیرمثالی جنگی جرائم ہیں جن پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔

آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید انکشاف کیا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے مخصوص لیڈرز کے بیانات ان کی مجرمانہ ذمہ داری کا واضح اعتراف ہیں، اور یہاں تک کہ وہ ایسے انسانیت سوز اقدامات پر کھلے عام فخر کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ مضحکہ خیز تکبر درحقیقت ان کے اپنے جرائم کا بین ثبوت ہے، جو ایرانی قوم کے پامال کیے گئے حقوق کی بحالی کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت ایک مضبوط ترین قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے عدلیہ کو حکم دیا کہ جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے ان مہروں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر سخت سزائیں دلوائی جائیں کیونکہ اس طرح کی جارحانہ قانونی کارروائی ہی مستقبل میں دنیا کی کسی بھی متکبر طاقت کو ایران کے خلاف دوبارہ اس قسم کے مکروہ جرائم کے ارتکاب سے روکنے میں مدد فراہم کرے گی۔