بھارت کا ‘آپریشن سندور’ میں بدترین شکست اور فوجی اموات کا ایک سال بعد اعتراف؛ 6 ہلاک اہلکاروں کی شناخت جاری
نئی دہلی: پاکستان کے خلاف گزشتہ سال کی جانے والی مہم جوئی اور عسکری جارحیت (معرکہ حق / آپریشن سندور) کے دوران اپنی بدترین تزویراتی و عسکری شکست کو دنیا سے چھپانے کا مودی سرکار کا مضحکہ خیز ڈراما ایک سال بعد بری طرح فلاپ ہو گیا ہے۔
بھارتی حکومت نے بالآخر پہلی بار سرکاری اور باضابطہ سطح پر پاکستان کے ہاتھوں مارے جانے والے اپنے 6 فوجیوں کی شناخت اور ہلاکتوں کا اعتراف کر لیا ہے۔
معتبر بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ اور تحقیقی صحافتی جریدے ’دی وائر‘ کی رپورٹس کے مطابق، مودی حکومت نے ان ہلاک شدگان کی فہرست سرکاری طور پر جاری کی ہے جنہیں گزشتہ سال پاکستان کے خلاف کارروائی میں عبرتناک انجام کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ان ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں بھارتی تھل فوج (Army) کے 5 اور بھارتی فضائیہ (IAF) کا ایک اہلکار شامل ہے۔
بھارتی سرکار کی جانب سے جاری کردہ اس باضابطہ فہرست کے مطابق، ہلاک ہونے والے فوجیوں میں میجر پون کمار، سنیل کمار، لانس نائیک دنیش کمار، اگنی ویر، حوالدار سنیل کمار سنگھ اور بھارتی فضائیہ کے سارجنٹ سریندر کمار شامل ہیں۔
اس اعترافِ جرم اور حقائق کے سامنے آنے کے بعد بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس، مقامی میڈیا اور عوام کی جانب سے مودی حکومت اور عسکری قیادت کے خلاف شدید ردِعمل اور سوالات کا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔
کانگریس نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب میدانِ جنگ میں اتنی بڑی ہلاکتیں ہو رہی تھیں تو وزیرِ دفاع اور وزیرِ اعظم نے پارلیمان اور پوری قوم کو اندھیرے میں کیوں رکھا اور جھوٹ کیوں بولا؟
دفاعی امور پر نظر رکھنے والے مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے اپنی نام نہاد سیاسی ساکھ اور جھوٹے قوم پرستانہ بیانیے کو گرنے سے بچانے کے لیے تقریباً 13 ماہ تک ملکی نقصانات اور لاشوں پر پردہ ڈالے رکھا۔ اس پورے عرصے میں بھارتی حکام کی جانب سے انتہائی شرمناک اور متضاد بیانات سامنے آتے رہے۔
11 مئی 2025 کو بھارتی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (DGMO) نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں 5 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، لیکن جولائی 2025 میں پانسہ پلٹتے ہوئے بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمان (لوک سبھا) میں کھڑے ہو کر صاف انکار کر دیا کہ کارروائی کے دوران بھارت کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
بعد ازاں، اس فاش جھوٹ کو چھپانے کے لیے بھارتی پریس انفارمیشن بیورو (PIB) کے دفاعی شعبے کو ایک وضاحتی اعلامیہ جاری کرنا پڑا جس میں مضحکہ خیز دعویٰ کیا گیا کہ راج ناتھ سنگھ کا بیان ‘سیاق و سباق سے ہٹ کر’ سمجھا گیا۔
اب حالیہ سرکاری پریس ریلیز نے پچھلے تمام جھوٹوں کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے، تاہم اس نئی فہرست میں بھی پچھلے سال عسکری اعزاز پانے والے بی ایس ایف (BSF) کے دو جوانوں، دیپک اور رام بابو سنگھ کے نام شامل نہ ہونے پر بھارتی میڈیا مودی سرکار پر مزید دباؤ بڑھا رہا ہے کہ وہ بقیہ لاشوں کا سچ بھی قوم کے سامنے اگل دے۔

