امریکی حملوں کا جواب؛ ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر ہولناک میزائل اور ڈرون حملے، اہم انفراسٹرکچر تباہ کرنے کا دعویٰ
تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین کشیدگی کے دوران ایران نے امریکی فوجی کارروائیوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں قائم امریکی اہم عسکری تنصیبات اور اڈوں پر ہولناک میزائل اور ڈرون حملے کر دیے ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں اداروں ‘تسنیم’ اور ‘پریس ٹی وی’ کے مطابق، ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اتوار کی صبح مقامی وقت کے مطابق رات 2 سے 3 بجے کے درمیان ایرانی نیوی اور ایرو اسپیس فورس نے ایک بڑی مشترکہ کارروائی کا آغاز کیا۔
اس کارروائی کے دوران کویت میں واقع امریکی ‘علی السالم ایئر بیس’ اور بحرین میں موجود امریکی بحری بیڑے ‘ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر پورٹ سلمان’ کو درجنوں گائیڈڈ میزائلوں اور خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں امریکی فوج کے کم از کم 8 اہم ترین فوجی انفراسٹرکچر تباہ ہو گئے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ تزویراتی کارروائی ایران پر اتوار کے روز کیے جانے والے حالیہ امریکی حملوں کا ایک ’فیصلہ کن اور فوری جواب‘ ہے۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکا نے اتوار کے روز ایران کے 5 مختلف ساحلی مقامات پر بمباری کی تھی، جو دونوں ممالک کے مابین حال ہی میں طے پانے والی 14 نکاتی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ (Islamabad MoU) اور جنگ بندی کے معاہدے کی شق نمبر 1 کی کھلی منافی اور سنگین خلاف ورزی ہے۔
تہران نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے یہ جارحیت بند نہ کی گئی، تو اس معاہدے کے تحت جاری تمام تر سفارتی عمل مکمل طور پر روک دیا جائے گا اور خطے کی صورتحال کی تمام تر ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہو گی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مستقبل میں اگر امریکا نے ایران کے خلاف کسی بھی نوعیت یا حجم کا کوئی بھی دشمنانہ عسکری اقدام اٹھایا، تو ایران اس کا پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
دوسری جانب، پینٹاگون اور امریکی عسکری حکام کی طرف سے کویت اور بحرین میں اپنے اڈوں پر ہونے والے ان ایرانی حملوں اور نقصانات کے دعوؤں کی فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔
تاہم، اس بڑی عسکری لہر اور جوابی حملوں کے بعد خلیجی خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں اور عالمی برادری اس نازک صورتحال پر تشویش کے ساتھ گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

