قیامِ امن کے لیے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی شب و روز انتھک محنت قابلِ ستائش ہے، شہباز شریف

کراچی: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اپنی سرزمین پر بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو ہر قیمت پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مکمل پُرعزم ہے۔

کراچی میں پاکستان نیول اکیڈمی (پی این ایس رہبر) میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاس آؤٹ ہونے والے پاکستانی اور برادر دوست ممالک کے کیڈٹس کو مبارکباد پیش کی اور ملکی دفاع سمیت عالمی امن میں پاک بحریہ کے تاریخی و شاندار کردار (معرکہ حق) کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں پاکستان نیوی ایک مضبوط دفاعی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے اور حکومت اسے مزید جدید و مضبوط بنا رہی ہے۔

ایران اور امریکا کے مابین ہونے والی حالیہ اہم ترین تزویراتی مفاہمت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ‘اسلام آباد معاہدے’ پر دستخط اور بطور ثالث پاکستان کا کردار سفارتی میدان میں ملک کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔

انہوں نے اس تاریخی کامیابی کا سہرا پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کے سر باندھتے ہوئے، خطے اور دنیا میں قیامِ امن کے لیے فیلڈ مارشل، آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی شب و روز انتھک محنت اور عسکری ڈپلومیسی کو خصوصی طور پر سراہا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حالیہ علاقائی تبدیلیاں دور رس اثرات کی حامل ہیں، تاہم ہمارا مشرقی ہمسایہ ملک (بھارت) اپنی شکست خوردہ ذہنیت کے تحت پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے پراکسیز کا سہارا لے رہا ہے، لیکن افواجِ پاکستان عوام کی حمایت سے ان کے تمام ناپاک عزائم کو خاک میں ملا رہی ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا حالیہ دورہ پاکستان دونوں برادر ممالک کے گہرے تعلقات کا عکاس ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے معاشی تناظر میں بحری سلامتی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارت کے لیے اہم سمندری گزرگاہوں پر بلا رکاوٹ اور آزادانہ نقل و حرکت کا حق اب کوئی آسائش نہیں بلکہ پوری دنیا اور عالمی معیشت کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔

حالیہ علاقائی لہر نے ثابت کر دیا ہے کہ سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے تجارتی راستوں کا محفوظ ہونا کتنا ضروری ہے۔

انہوں نے پاکستان کے اصولی اور روایتی مؤقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ ہمارا ملک دنیا بھر میں امن، مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل کا داعی ہے، اور ہم مقبوضہ کشمیر، فلسطین اور غزہ کے مظلوم عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے اور عالمی فورمز پر ان کا مقدمہ پوری قوت سے لڑتے رہیں گے۔