اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے بیشتر حصوں اور صوبوں میں زلزلے کے شدید اور ہولناک جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اپنے گھروں، دکانوں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔
زلزلہ پیما مرکز (Seismological Center) کے مطابق، ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ اس کا مرکز افغانستان کا ہندوکش ریجن تھا اور زمین میں اس کی گہرائی 178 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
زلزلے کے یہ جھٹکے شام 6 بج کر 35 منٹ پر محسوس کیے گئے، جس کے دوران کئی مقامات پر کثیر المنزلہ عمارتوں اور گھروں کی دیواریں ہلتی ہوئی محسوس کی گئیں۔ یورپی زلزلہ پیما مرکز نے اس کی شدت 6 ریکارڈ کی ہے۔
خیبر پختونخوا کے اضلاع پشاور، مردان، سوات، چارسدہ، مانسہرہ، باجوڑ، شانگلہ اور کوہاٹ جبکہ پنجاب میں لاہور، راولپنڈی، اٹک، چکوال، تلہ گنگ، میانوالی، سیالکوٹ، سرگودھا اور ملتان سمیت پوٹھوہار ریجن میں جھٹکے واضح طور پر محسوس کیے گئے۔
اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے علاقوں مظفر آباد، وادی نیلم، پونچھ، میرپور اور گلگت بلتستان کے شہر دیامر میں بھی زمین لرز اٹھی۔
خوش قسمتی سے ان بالائی اور وسطی علاقوں سے اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
دوسری جانب، بلوچستان کے اضلاع بارکھان، کوہلو، رکھنی اور موسیٰ خیل میں بھی زلزلے کے الگ جھٹکے محسوس کیے گئے، جہاں زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر شدت 5.2 اور گہرائی محض 19 کلومیٹر تھی، جس کا مرکز بارکھان سے 58 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔ کم گہرائی کے باعث یہاں زلزلے نے نقصان پہنچایا ہے۔
پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) بلوچستان کے مطابق، ضلع موسیٰ خیل کے علاقے گنگری میں ایک ہوٹل کی چھت گرنے سے 2 مزدور شدید زخمی ہو گئے، جبکہ اسی علاقے کے ایک شمالی حصے میں فضل نامی شہری کا مکان منہدم ہونے سے ایک شخص زخمی ہوا۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان کے ضلع سبی میں گزشتہ روز بھی 4.2 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
پی ڈی ایم اے پنجاب اور بلوچستان کی انتظامیہ نے اپنے تمام ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کو 24/7 فعال کر دیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں عمارتوں کا سروے اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

