پیٹرول اور ڈیزل کم کرنے کے معاملے پر حکومت اور آئل کمپنیوں کے درمیان شدید اختلافات

اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی حالیہ نمایاں کمی کے بعد وفاقی حکومت اور ملک کی آئل انڈسٹری کے درمیان ایک بہت بڑا اور سنگین تزویراتی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

پاکستان کی تمام بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) اور پیٹرولیم ریفائنریز نے حکومت اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) پر براہِ راست الزام عائد کیا ہے کہ اتھارٹی نے قیمتوں کے حالیہ پندرہ روزہ جائزے کے دوران عالمی پریمیم اور بین الاقوامی ‘پلاٹس’ (Platts) کے اوسط نرخوں کا غلط حساب کتاب لگایا ہے۔

صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے شیئر کیے گئے ڈیٹا کے مطابق، اس مبینہ غلطی کے نتیجے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 45 روپے فی لیٹر اور موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت میں 11 روپے فی لیٹر کی حد سے زیادہ اور اضافی کمی کر دی گئی، جس سے انڈسٹری کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔

انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ اوگرا نے پریمیم کے حقیقی اخراجات کو شامل نہیں کیا، لہٰذا اس طریقہ کار پر فوری نظرثانی کی جائے۔

دوسری جانب، یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل رسد میں اضافے اور خطے میں کشیدگی کم ہونے کے باعث گزشتہ تین ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

عالمی منڈی کے اس رجحان کے باعث پاکستان میں آئندہ پندرہ واڑے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید سستی کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔

باوثوق ذرائع کے مطابق، آئندہ جائزے میں پیٹرول کی قیمت میں 22 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 42 روپے فی لیٹر تک کی مزید بڑی کمی کی تجاویز اور سفارشات زیرِ غور ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس مزید کمی کی منظوری دے دی، تو اس کے انتہائی مثبت اثرات ملک کے ٹرانسپورٹ سیکٹر اور عام صارفین تک پہنچیں گے، جس سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل سستی ہو گی اور ملک میں مہنگائی کے دباؤ میں واضح کمی آئے گی۔