ایران جنگ میں پاکستان کا سفارتی کردار قیامت تک یاد رکھا جائے گا، وزیر دفاع خواجہ آصف

سیالکوٹ: وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے اپنے آبائی شہر سیالکوٹ میں یومِ عاشور کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے خصوصی اور تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے مابین حالیہ جنگ اور شدید ترین کشیدگی کے دوران پاکستان نے دونوں طاقتوں کے درمیان صلح کروانے اور بات چیت کے راستے ہموار کرنے کے لیے جو تاریخی و تزویراتی کردار ادا کیا ہے، اسے تاریخ اور امتِ مسلمہ میں قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس کامیاب ترین سفارت کاری کے باعث پوری مسلم امہ کے سامنے سرخرو ہوا ہے اور اس سے عالمی سطح پر ملک کا وقار اور تزویراتی اہمیت بھی مزید بلند ہوئی ہے۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ رواں سال یومِ عاشور ایک ایسے تاریخی موقع پر آیا ہے جب پورے خطے میں ایک ہولناک عسکری جنگ چھڑی ہوئی تھی، اور اس دوران ایرانی عوام اور قیادت نے حق کے لیے ڈٹ کر، بے مثال استقامت اور ثابت قدمی دکھا کر سنتِ حسینؓ اور شہدائے کربلا کی لازوال یاد تازہ کر دی ہے۔

خواجہ آصف نے کربلا کے فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ واقعہ کربلا ہمیں ہر حال میں حق، صبر، اور بنیادی اصولوں پر قائم رہنے کا آفاقی درس دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے موجودہ بین الاقوامی حالات میں بھی جنگ کے بجائے امن، انصاف اور انسانی اقدار کو ترجیح دی۔

انہوں نے خطے کی تازہ ترین صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایران، فلسطین اور لبنان کے غیور عوام کی لازوال قربانیاں اب رنگ لا رہی ہیں اور عالمِ اسلام میں ایک نیا اسٹریٹجک اتحاد جنم لے رہا ہے۔

وہ وقت اب زیادہ دور نہیں جب فلسطین ایک مکمل آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرے گا اور لبنان کے مظلوم عوام کو بھی اسرائیلی ظلم و بربریت اور غصب سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی۔

وزیرِ دفاع نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو ایک پرچم تلے متحد فرمائے اور دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے، انہیں آزادی نصیب کرے۔

سرحدی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک بار پھر سخت اور دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کا اصل منبع اور گڑھ افغانستان ہے۔

انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے شکوہ کیا کہ امریکا سمیت تمام عالمی طاقتیں ماضی میں ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے ہمیں استعمال کر کے چلی گئیں، اور اب بھی افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ایک باقاعدہ جنگ لڑی جا رہی ہے۔

تاہم، انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور عوام خطے میں مستقل امن و استحکام کے قیام اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے ہر ممکنہ مثبت اور دفاعی کردار جاری رکھیں گے۔