واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ ہفتے ہونے والے امن معاہدے اور جنگ بندی کے بعد ایک بار پھر شدید ترین عسکری کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے باقاعدہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں ایک تجارتی بحری جہاز پر کیے گئے حملے کے جواب میں امریکی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے ایران کے اندر داخل ہو کر اس کے میزائل اور ڈرون ذخائر سمیت ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی فوج کی کمانڈ ‘سینٹکام’ نے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ ایک ہنگامی اور تزویراتی بیان میں تصدیق کی کہ ایران نے 25 جون کو عالمی تجارتی گزرگاہ سے گزرنے والے ایک کمرشل جہاز ‘ایم وی ایور لوولی’ (MV Ever Lovely) پر ڈرون سے بلااشتعال حملہ کیا تھا، جس کے فوراً بعد پینٹاگون کے حکم پر امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون اسٹوریج کے مقامات پر بمباری کر کے انہیں تباہ کر دیا۔
امریکی فوج نے اپنے تادیبی بیان میں واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے خلاف ایران کی یہ بلااشتعال عسکری کارروائی دونوں ممالک کے مابین حالیہ جنگ بندی اور طے شدہ معاہدے کی سنگین و واضح خلاف ورزی ہے۔
سینٹکام کے مطابق، ایران کا یہ معاندانہ اقدام عالمی تجارت اور معیشت کی سب سے اہم ترین شہ رگ یعنی آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کی آزادی کے لیے ایک براہِ راست اور بڑا خطرہ ہے۔
امریکی حکام نے واشنگٹن میں عزم دہرایا کہ امریکی فورسز خطے میں بدستور موجود ہیں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دیگر تمام تجارتی جہازوں کو محفوظ راہداری (Safe Corridor) اور سیکیورٹی رابطہ کاری فراہم کرنے کے لیے ہر وقت انتہائی چوکس اور ہائی الرٹ رہیں گی تاکہ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب، ایرانی میڈیا اور مقامی ذرائع نے امریکی فضائی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جنوبی ایران کے ساحلی شہر ‘سیریک’ (Sirik) میں امریکی طیاروں کی جانب سے داغا گیا ایک طاقتور گولا گرا ہے، جس سے ساحلی پٹی لرز اٹھی۔
اس ہائی وولٹیج عسکری کارروائی سے قبل واشنگٹن میں میڈیا نمائندوں نے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کی جانب سے جہاز کو نشانہ بنائے جانے پر ممکنہ امریکی ردِعمل کے بارے میں سوال پوچھا تھا، تو صدر ٹرمپ نے ایک تیکھا اور پراسرار جواب دیتے ہوئے صحافیوں کو کہا تھا کہ "آپ کو خود پتہ چل جائے گا”۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان کے چند ہی گھنٹوں بعد امریکی جیٹس نے ایران پر بمباری کر دی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نئی مڈبھیڑ کے بعد پچھلے ہفتے شروع ہونے والے 60 روزہ امن مذاکرات کے متاثر ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

