عرب ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر ایران کے تابڑ توڑ حملے؛ امریکا مشرقِ وسطیٰ سے اپنے جنگی اڈے منتقل کرنے پر مجبور

واشنگٹن: امریکی مقتدر اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ (Wall Street Journal) نے اپنی ایک انتہائی سنسنی خیز اور تہلکہ خیز انویسٹی گیٹو رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ براہِ راست جنگ کے دوران ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے بحرین میں واقع امریکی بحریہ کے واحد اور انتہائی اسٹریٹجک اڈے کو شدید ترین مالی و ساختہ جاتی نقصان پہنچا ہے۔

اخبار نے نئی سیٹلائٹ تصاویر، سوشل میڈیا ویڈیوز اور موجودہ و سابق فوجیوں کے انٹرویوز پر مبنی ایک تفصیلی تجزیے میں بتایا ہے کہ فروری کے آخر سے جون تک بارہا نشانہ بنائے جانے والے اڈے ‘نیول سپورٹ ایکٹیویٹی بحرین’ (NSA Bahrain) پر ایرانی حملوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، جسے امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اب تک عوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، ان امریکی تنصیبات پر صرف تعمیراتی اور بنیادی ڈھانچے کا نقصان ہی تقریباً 40 کروڑ ڈالر (400 ملین ڈالر) ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں ملبہ ہٹانے اور تباہ ہونے والے حساس فوجی و مواصلاتی آلات کی خطیر لاگت شامل نہیں۔

امریکی تھنک ٹینک ‘سی ایس آئی ایس’ (CSIS) کے مطابق، جنگ کے آغاز میں ایران کے تباہ کیے گئے دو سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز کی مالیت ہی تقریباً 4 کروڑ ڈالر تھی۔

ان حملوں میں امریکی پانچویں بحری بیڑے (US Fifth Fleet) کا ہیڈکوارٹر، کمانڈ سینٹرز، ایک درجن سے زائد عمارتیں، فوجی بیرکیں، کئی گودام اور پینے کے پانی کا تزویراتی ذخیرہ شدید متاثر ہوا۔

پینٹاگون کے حکام اور امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کا کہنا ہے کہ ایران نے جنگ کے دوران 8 ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون داغے، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ جانی نقصان کو بچانے کے لیے عملے کو وہاں سے پہلے ہی نکال لیا گیا تھا جس کی وجہ سے اس اڈے پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، البتہ خطے میں دیگر 20 تنصیبات پر حملوں میں 13 امریکی اہلکار ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

عرب خطے میں ایرانی میزائلوں کی پہنچ اور اس بدترین فوجی نقصان کے بعد، امریکی دفاعی حکام اب مشرقِ وسطیٰ میں اپنی مجموعی عسکری موجودگی کے جغرافیے پر ازسرِ نو غور کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، پینٹاگون اب بحرین کے اڈے کی ازسرِ نو تعمیر کے بجائے وہاں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کو زیرِ زمین منتقل کرنے، کویت اور سعودی عرب میں اپنی فوجی موجودگی کو انتہائی محدود کرنے اور اپنے تزویراتی اثاثوں اور اڈوں کو مغرب یا اسرائیل منتقل کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے تاکہ وہ ایرانی ہتھیاروں کی رینج سے باہر رہ سکیں۔

اس وقت بھی اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ پر درجنوں امریکی فائٹر جیٹس اور ری فیولنگ طیارے تعینات ہیں۔

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ اس طویل جنگ پر آنے والے بھاری اخراجات کے باعث اندرونِ ملک اور خود اپنی ریپبلکن جماعت کے اندر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

کانگریس کے قانون ساز اس بات پر شدید برہم ہیں کہ پینٹاگون نے جنگی نقصانات کی تفصیلات چھپانے کی کوشش کی۔ محکمہ دفاع کے مطابق، جنگ کی مجموعی لاگت جو 29 ارب ڈالر بتائی گئی تھی، اس میں بیسز کا نقصان شامل نہیں تھا، جبکہ آزاد تھنک ٹینکس کے مطابق جنگ کی کل لاگت 40 ارب ڈالر رہی ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کے باعث عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں میں بھی پچھلے دنوں زبردست اضافہ دیکھا گیا تھا۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اب عسکری صلاحیتوں کی بحالی کے لیے 80 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (MOU) طے پائی ہے، جس کے تحت کشیدگی کے خاتمے کے لیے 60 روزہ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں، تاہم اسرائیل اس امن معاہدے کا فریق نہیں ہے اور اس پر مسلسل تنقید کر رہا ہے۔