امریکی تحویل سے رہا 22 ایرانی ارکان کراچی پہنچ گئے؛ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وفاقی وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے حال ہی میں تحویل میں لیے گئے بین الاقوامی بحری جہاز ‘لیونور / ڈاوینا’ (Lenore / Davina) کے عملے کے ایران سے تعلق رکھنے والے 22 ارکان بحفاظت پاکستان کے ساحلی شہر کراچی پہنچ گئے ہیں۔

کراچی آمد کے فوری بعد ان تمام افراد کو وہاں قائم ایرانی قونصل خانے اور سفارتی حکام کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ پاکستان میں متعین ایرانی سفارتی مشنز کے ساتھ انتہائی قریبی اور مضبوط تعاون کے ذریعے ان تمام رہا پانے والے افراد کی جلد اور محفوظ وطن واپسی (تہران) کے لیے اسٹریٹجک انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ اس بڑے آئل ٹینکر کو امریکی فورسز نے رواں ماہ 5 جون کو بحیرہ عرب (انڈین اوشین) میں ایرانی خام تیل منتقل کرنے اور بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی پر ایک خصوصی کارروائی کے دوران روکا تھا۔

جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے عالمی ڈیٹا (Ship Tracking Data) کے مطابق، اس سائز کے بڑے سپرتانکر پر تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل موجود تھا، جسے امریکی کوسٹ گارڈ اور بحریہ نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

اسحاق ڈار نے اس پیچیدہ معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس پورے آپریشن اور عملے کی رہائی کے عمل کے دوران پاکستان کی وزارتِ خارجہ بیک وقت امریکی اور ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل اور قریبی سفارتی رابطے میں رہی، جس کے نتیجے میں یہ پرامن منتقلی ممکن ہو سکی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مزید انکشاف کیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران ایرانی عملے کے ارکان کا یہ چوتھا بڑا گروپ ہے، جس کی بحفاظت اور قانونی وطن واپسی کے لیے پاکستان نے ایک بنیادی سہولت کار اور ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔

اب تک پاکستان کی سرزمین اور فضائی راستوں کے ذریعے 70 سے زائد ایرانی شہریوں کو امریکی و برطانوی تحویل سے چھڑا کر بحفاظت ایران واپس بھیجا جا چکا ہے۔

اس سے قبل 17 جون کو بھی پاکستان نے ایسے ہی 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں معاونت کی تھی، جن میں 8 وہ مائیکیر بھی شامل تھے جنہیں سمندر میں ایک برطانوی جہاز نے ڈوبنے سے بچایا تھا۔

وزیرِ خارجہ نے پاکستانی اداروں اور دفترِ خارجہ کی ٹیم کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس نازک موڑ پر پاکستان کی سلامتی اور سفارت کاری پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔