گولڈن بوٹ کی دوڑ میں کانٹے دار مقابلہ، میسی، ایمباپے اور ہالینڈ مدمقابل

نیویارک : امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں جاری فیفا ورلڈ کپ 2026 میں گولڈن بوٹ (Golden Boot) حاصل کرنے کی دوڑ غیر معمولی حد تک سنسنی خیز اور دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں دنیا کے تین بہترین فارورڈز لیونل میسی، کائلین ایمباپے اور ایرلنگ ہالینڈ ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔

بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق، ٹورنامنٹ کے ابتدائی دو میچوں کے بعد ارجنٹائن کے جادوگر کپتان لیونل میسی 5 گولز کے ساتھ سب سے آگے ہیں، جبکہ فرانس کے کائلین ایمباپے اور ناروے کے نوجوان اسٹار ایرلنگ ہالینڈ 4، 4 گولز کے ساتھ ان کے تعاقب میں ہیں۔

فٹبال ورلڈ کپ کی طویل تاریخ میں یہ صرف دوسرا موقع ہے جب ابتدائی دو میچوں کے بعد تین مختلف کھلاڑی 4 یا اس سے زیادہ گول کرنے میں کامیاب ہوئے ہوں، اس سے قبل یہ حیران کن منظر 1954 کے عالمی کپ میں دیکھا گیا تھا۔

ارجنٹائن کے 38 سالہ کپتان لیونل میسی نے آسٹریا کے خلاف میچ میں دو شاندار گول اسکور کر کے نہ صرف اپنی ٹیم کو فتح دلائی بلکہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کا منفرد اعزاز بھی اپنے نام کر لیا۔

میسی اب 28 ورلڈ کپ میچوں میں 18 گولز کے ساتھ اس فہرست میں سرفہرست آ گئے ہیں۔

دوسری جانب، فرانس کے کائلین ایمباپے نے عراق کے خلاف دو گول داغ کر اپنے کیریئر کے 100ویں بین الاقوامی میچ کو یادگار بنا دیا۔

ان دو گولز کی بدولت ایمباپے نے ورلڈ کپ تاریخ میں مجموعی طور پر 16 گولز مکمل کر کے جرمنی کے لیجنڈری اسٹرائیکر میروسلاف کلوزے (Miroslav Klose) کے ہمہ وقت سب سے زیادہ گولز کے تاریخی ریکارڈ کی برابری کر لی ہے اور وہ فرانس کے لیے سب سے زیادہ ورلڈ کپ گول کرنے والے کھلاڑی بھی بن چکے ہیں۔

اس ہائی وولٹیج مقابلے میں ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ نے بھی سینیگال کے خلاف دو گول کر کے اپنی ٹیم کو اگلے مرحلے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہالینڈ اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ کے ابتدائی دو میچوں میں مسلسل 2، 2 گول کر کے محض دو میچوں کے بعد ناروے کے ٹاپ اسکورر بن گئے ہیں۔

فٹبال مبصرین کے مطابق، انگلینڈ کے کپتان ہیری کین بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں، جنہوں نے افتتاحی میچ میں دو گول کر کے انگلینڈ کے لیے گیری لائنکر کے ریکارڈ کو برابر کر دیا ہے اور وہ بھی اس دوڑ کا حصہ بن سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 48 ٹیموں پر مشتمل فیفا کے نئے فارمیٹ اور اضافی میچوں کی وجہ سے اس بار ٹورنامنٹ میں گولز کی بھرمار ہو رہی ہے جس سے دنیا کے بہترین فارورڈز کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور ہمہ وقت گول اسکورنگ ریکارڈز کو توڑنے کے سنہری مواقع مل رہے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا میسی اپنی برتری برقرار رکھ پاتے ہیں یا ایمباپے اور ہالینڈ انہیں پیچھے چھوڑ دیں گے۔