وینزویلا میں زلزلوں کی قیامت خیز تباہی؛ وزیراعظم شہباز شریف کا قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لاطینی امریکی ملک وینزویلا میں آنے والے پے در پے دو قیامت خیز زلزلوں کے نتیجے میں ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی، عمارتیں گرنے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ، افسوس اور رنج کا اظہار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کیے گئے اپنے ایک خصوصی تعزیتی بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ "میں پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے وینزویلا کی حکومت، وہاں کے غیور عوام اور بالخصوص اس ہولناک سانحے میں اپنے پیاروں کو کھو دینے والے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔”
انہوں نے زلزلے کے نتیجے میں ملبے تلے دبنے اور زخمی ہونے والے ہزاروں افراد کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے بھی خصوصی دعا کی ہے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان اس کٹھن، مشکل اور انتہائی دردناک وقت میں وینزویلا کے تمام متاثرہ افراد اور عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
واضح رہے کہ وینزویلا میں چند منٹوں کے وقفے سے آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو انتہائی طاقتور زلزلوں نے دارالحکومت کراکس سمیت کئی شہروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں بدترین ہنگامی صورتحال (ایمرجنسی) نافذ کر دی گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، زلزلے کی تپش اتنی شدید تھی کہ درجنوں کثیر المنزلہ رہائشی اور کمرشل عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مائی کیٹیا (Maiquetía) میں واقع ملک کے مرکزی اور سب سے بڑے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے بنیادی انفراسٹرکچر کو زلزلے کی لرزش سے شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث ہوائی اڈے کو ہر قسم کی پروازوں کے لیے فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب، امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے ایک انتہائی خوفناک اور تشویشناک ڈیٹا جاری کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبے تلے دبے ہوئے افراد کی بڑی تعداد کے پیشِ نظر وینزویلا میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 10 ہزار سے لے کر 1 لاکھ کے درمیان پہنچ سکتی ہے۔
اس قدرتی آفت کی ہولناکی نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کی قیادت کی جانب سے لاطینی امریکہ کے لیے امداد اور تعزیت کے پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔

