اسلام آباد: ملکی توانائی کے شعبے اور معیشت کے لیے صوبہ سندھ کے دو مختلف اضلاع سے انتہائی شاندار اور مثبت خبریں سامنے آئی ہیں، جہاں ڈھرکی اور خیرپور میں دریافت ہونے والے نئے کنوؤں سے گیس کی باقاعدہ پیداوار کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ماڑی انرجیز (Mari Energies) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ضلع گھوٹکی کے علاقے ڈھرکی میں واقع ‘شمس ون’ (Shams-1) کنویں سے حاصل ہونے والی گیس کو کامیابی کے ساتھ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) کے سسٹم میں شامل کر دیا گیا ہے۔
اس کنویں سے روزانہ 3 کروڑ (30 ملین) مکعب فٹ گیس ملکی نیٹ ورک کو فراہم کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ ماڑی ڈویلپمنٹ اینڈ پروڈکشن لیز ڈھرکی کی آپریٹر ہے اور وہ اس منصوبے میں 100 فیصد حصص کی مالک ہے۔
دوسری جانب، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL) نے بھی سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع کھیواری بلاک کے ‘سہیٹو ون’ (Seheto-1) کنویں سے تجارتی بنیادوں پر گیس کی پیداواری سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
او جی ڈی سی ایل کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کو بھیجے گئے ایک آفیشل خط میں بتایا گیا ہے کہ سہیٹو ون کنویں سے ابتدائی طور پر یومیہ 60 لاکھ (6 ملین) مکعب فٹ گیس حاصل کی جا رہی ہے، جسے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGCL) کے نیٹ ورک میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
ترجمان او جی ڈی سی ایل کے مطابق، گیس کی بحفاظت ترسیل کے لیے 5 کلومیٹر طویل اور 6 انچ قطر کی فلو پائپ لائن بچھا کر اس کنویں کو ‘سنجھورو گیس پراسیسنگ پلانٹ’ سے منسلک کیا گیا ہے، جہاں گیس کی ضروری صفائی اور پراسیسنگ کے بعد اسے مین سپلائی لائن کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ سہیٹو ون کنویں سے گیس کی یہ اہم دریافت 26 مارچ 2026ء کو ہوئی تھی اور اب محض چند ماہ کے اندر اسے پیداواری نظام میں شامل کر لیا گیا ہے۔
اس تزویراتی کھیواری جوائنٹ وینچر میں او جی ڈی سی ایل 75 فیصد حصص کے ساتھ مرکزی آپریٹر ہے جبکہ گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ (GHPL) کے پاس 25 فیصد حصص موجود ہیں۔
ماہرینِ توانائی کا ماننا ہے کہ ملکی سطح پر حاصل ہونے والی اس نئی گیس کی بدولت غیر ملکی ایل این جی پر انحصار کم ہوگا اور مقامی ہائیڈرو کاربن وسائل کے بہتر استعمال سے صنعتوں اور گھریلو صارفین کو توانائی کی فراہمی میں بڑی مدد ملے گی۔
ترجمان نے امید ظاہر کی ہے کہ سہیٹو ون کنویں کی پیداواری صلاحیت کو مرحلہ وار بنیادوں پر مستقبل میں مزید بڑھایا جائے گا جو ملکی توانائی کے شعبے کے لیے ایک انتہائی اہم اور تزویراتی پیشرفت ثابت ہوگی۔

