وینزویلا میں پے در پے دو قیامت خیز زلزلے؛ درجنوں عمارتیں زمین بوس، ہزاروں اموات کا خدشہ، ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ
کراکس: لاطینی امریکی ملک وینزویلا میں قومی تعطیل کے روز پے در پے آنے والے دو انتہائی طاقتور اور قیامت خیز زلزلوں نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے نتیجے میں دارالحکومت کراکس سمیت مختلف شہروں میں ایک 22 منزلہ بلند و بالا ٹاور اور درجنوں رہائشی و کمرشل عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح زمین بوس ہو گئی ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق، مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 4 منٹ پر چند سیکنڈز کے وقفے سے دو شدید ترین جھٹکے محسوس کیے گئے، جن میں پہلے زلزلے کی شدت 7.1 اور اس کے فوراً بعد آنے والے دوسرے ہولناک زلزلے کی شدت 7.5 ریکارڈ کی گئی، جبکہ زمین کے اندر ان کی گہرائی 35 کلومیٹر تھی۔
زلزلوں کا مرکز کراکس سے 284 کلومیٹر مشرق میں تھا، تاہم اس کی تپش اور لرزش اتنی شدید تھی کہ پڑوسی ملک کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا اور قریبی کریبین جزائر تک پوری دھرتی لرز اٹھی۔
زلزلوں کے فوری بعد ساحلی علاقوں کے لیے سونامی (Tsunami) کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔
وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے اس واقعے کو بدترین "قومی سانحہ” قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں فوری طور پر ہنگامی صورتحال (ایمرجنسی) نافذ کر دی ہے۔
حکام نے اب تک ملبے سے 164 سے زائد لاشیں نکالنے اور 1,000 سے زائد افراد کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے نے ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ جاری کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کی بڑی تعداد کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے لے کر 1 لاکھ کے درمیان پہنچنے کا خدشہ ہے، اور اموات کے 10 ہزار سے تجاوز کرنے کے امکانات 44 فیصد ہیں۔
قائم مقام صدر کے مطابق، زلزلے سے کراکس کے مرکزی ‘مائی کیٹیا انٹرنیشنل ایئرپورٹ’ (Maiquetía Airport) کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے، چھتیں گرنے اور رن وے متاثر ہونے کے باعث ہوائی اڈے کو ہر قسم کی پروازوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ بجلی اور مواصلاتی نظام معطل ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
وینزویلا میں آنے والی اس ہولناک تباہی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملنے والی ابتدائی رپورٹس انتہائی دردناک ہیں اور بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے پینٹاگون اور امریکی امدادی اداروں کو فوری طور پر وینزویلا کے عوام کی مدد کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
امریکی نائب وزیرِ خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے ایک بیان میں وینزویلا کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مقامی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور امدادی سامان کو متحرک کیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی بحرین میں خلیجی ممالک کے دورے کے دوران تصدیق کی تھی کہ امریکی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں وینزویلا روانہ کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب، اسی وقت کے دوران دنیا کے دیگر حصوں میں بھی زلزلوں کا ایک لامتناہی سلسلہ دیکھا گیا ہے۔
امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شمالی علاقوں میں 5.6 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے بعد 10 لاکھ سے زائد شہریوں کو ہنگامی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، فلپائن میں 8.2 شدت کا ایک انتہائی تباہ کن زلزلہ ریکارڈ ہوا ہے جس کے بعد وہاں بھی سونامی کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔
جاپان کی موسمیاتی ایجنسی کے مطابق، جاپان کے علاقے ایواتی کے ساحل کے قریب بھی 6.9 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا ہے جس کی گہرائی 50 کلومیٹر تھی؛ جاپانی وزیرِ دفاع نے اپنی فوج کو زلزلہ زدہ ساحلی علاقوں میں فضائی انٹیلی جنس اور نقصانات کا ڈیٹا جمع کرنے کے لیے ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

