تل ابیب: اسرائیل نے امریکہ سے تل ابیب کے مرکزی اور سب سے بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈے ‘بن گورین ایئرپورٹ’ (Ben Gurion Airport) کو عسکری لاجسٹکس سے خالی کرنے کی باقاعدہ درخواست کر دی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی حکومت نے واشنگٹن کو ایک باضابطہ پیغام بھیجا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بن گورین ایئرپورٹ پر موجود امریکی فضائیہ کے ایندھن بردار جہازوں (Refueling Tankers) اور دیگر جنگی طیاروں کو فوری طور پر وہاں سے ہٹایا جائے۔
اسرائیلی حکام کا موقف ہے کہ موسمِ گرما کے آغاز کے ساتھ ہی ایئرپورٹ پر شہری اور مسافر پروازوں کا دباؤ انتہائی بڑھ چکا ہے، اور امریکی فوجی طیاروں کی مسلسل موجودگی اور نقل و حرکت کے باعث سویلین فلائٹس کے شیڈول اور آمدورفت میں شدید خلل کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ اس سے قبل ہی اسرائیل کی درخواست پر بن گورین ایئرپورٹ سے اپنے 28 بھاری ایندھن بردار طیارے دوسرے مقامات پر منتقل کر چکا ہے، تاہم ایئرپورٹ پر تجارتی پروازوں کے پہیے کو رواں رکھنے کے لیے اسرائیل نے اب مزید 20 امریکی فوجی طیاروں کو بھی وہاں سے فوری ہٹانے کا نیا مطالبہ داغ دیا ہے۔
تل ابیب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکی ایندھن بردار اور کارگو جہازوں کے بڑے حجم کی وجہ سے مسافر طیاروں کی پارکنگ، ٹیک آف اور لینڈنگ کے اوقات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، جس سے شہری ایوی ایشن کے شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر اسرائیل نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ بن گورین ایئرپورٹ پر اپنے فوجی طیاروں کی مجموعی تعداد کو کم سے کم سطح پر لے آئے۔
واضح رہے کہ اس وقت واشنگٹن اور تل ابیب کے اعلیٰ حکام اور دفاعی ماہرین کے درمیان ان فوجی طیاروں کی متبادل ائیر بیسز پر منتقلی کے حوالے سے انتہائی اہم سفارت کاری اور مشاورت کا عمل جاری ہے۔
اگرچہ بظاہر اس اقدام کی وجہ موسمِ گرما میں مسافروں کا رش اور شہری پروازوں کی بحالی بتائی جا رہی ہے، تاہم دفاعی مبصرین اس منتقلی کو خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور دفاعی توازن کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔
امریکی فضائیہ کے ان تزویراتی طیاروں کو اسرائیل کے کن متبادل ہوائی اڈوں یا پڑوسی ممالک کی فوجی بیسز پر منتقل کیا جائے گا، اس کا حتمی فیصلہ دونوں اتحادیوں کے مابین جاری سفارتی بات چیت کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

