آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں، ایران کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کریں گے؛ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو
واشنگٹن: امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں خلیج تعاون کونسل (GCC) کے وزرائے خارجہ کے اہم ترین اجلاس سے خطاب اور میڈیا بریفنگ کے دوران ایران امریکہ مذاکرات، علاقائی سیکیورٹی اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے تحفظ کے حوالے سے واشنگٹن کا انتہائی سخت اور دوٹوک موقف پیش کیا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو کسی بھی ایک ملک کی ذاتی ملکیت یا جاگیر کے طور پر ہرگز قبول نہیں کرے گا اور اس تزویراتی آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تجارتی و فوجی بحری جہازوں پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس یا فیس عائد نہیں ہونے دی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف بالکل واضح ہے؛ عمان اور دیگر خلیجی اتحادیوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ایران کی جانب سے فیس نافذ کرنے کی کسی بھی تجویز کی حمایت نہیں کرتے۔
مارکو روبیو نے بحرین کے بادشاہ (فرمانروا) سے ہونے والی اہم ملاقات اور خلیجی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ تعمیری مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسا پائیدار اور حقیقی امن چاہتا ہے جو ہمارے اور ہمارے مخلص اتحادیوں کی سیکیورٹی اور معاشی خوشحالی کو نقصان نہ پہنچائے۔
انہوں نے خلیجی ممالک کو یقین دہانی کرائی کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل اور ممکنہ معاہدے میں ان کے سیکیورٹی خدشات اور مفادات کا پورا خیال رکھا جائے گا اور واشنگٹن ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرے گا جو اتحادیوں کے خلاف جائے۔
انہوں نے اہم شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں 30 جون کو دوبارہ سوئٹزرلینڈ کا رخ کریں گی جہاں ایران کے جوہری پروگرام، منجمد اثاثوں اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمے سے متعلق حتمی تزویراتی بات چیت کی جائے گی۔
امریکہ اس ڈیل کو کامیاب بنانا چاہتا ہے لیکن ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی یا جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بین الاقوامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ اسرائیل اور لبنان کے مابین جاری امن مذاکرات کا آج تیسرا روز ہے اور امریکہ لبنان میں مستقل استحکام کا خواہاں ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے تصدیق کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہونے والے نیٹو (NATO) سربراہی اجلاس میں باقاعدہ شرکت کریں گے جہاں عالمی دفاعی شراکت داری اور تزویراتی روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
لاطینی امریکی ملک وینزویلا کی نازک صورتحال پر بات کرتے ہوئے مارکو روبیو نے بتایا کہ امریکہ نے وہاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی اور ریسکیو ٹیمیں روانہ کر دی ہیں اور امریکی حکومت اس مشکل گھڑی میں وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ متاثرہ علاقوں میں سرچ اور ریسکیو آپریشنز کو تیز کرنے کے لیے مزید بین الاقوامی امداد کی سخت ضرورت ہے۔

