اسلام آباد کے ایچ 9 اتوار بازار میں خوفناک آتشزدگی؛ 335 دکانیں اور اسٹالز جل کر خاکستر

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایچ نائن (H-9) میں واقع ہفتہ وار سستا بازار (اتوار بازار) میں اچانک خوفناک اور قیامت خیز آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں غریب اور متوسط طبقے کے تاجروں کی 335 دکانیں اور اسٹالز جل کر پوری طرح خاکستر ہو گئے ہیں۔

ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق، ابتدائی طور پر آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے بازار کے متعدد حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

آگ کی شدت اور پھیلاؤ میں اس وقت ہولناک اضافہ ہوا جب دکانوں اور اسٹالز میں یو پی ایس (UPS) اور دیگر مقاصد کے لیے رکھی گئی بیٹریاں یکے بعد دیگرے دھماکوں سے پھٹنا شروع ہو گئیں، جس سے آگ نے مزید تپش اور دباؤ پکڑ لیا۔

طویل گھنٹوں کی سخت جدوجہد اور ریسکیو آپریشن کے بعد بالاآخر آگ پر قابو پا کر کولنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر جڑواں شہر راولپنڈی سے بھی فائر بریگیڈ کی اضافی گاڑیاں اور عملہ طلب کر لیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بازار کے مجموعی طور پر 9 بڑے سیکشنز آگ کی زد میں آئے، جن میں کپڑوں، جوتوں اور دیگر گھریلو اشیاء کے اسٹالز شامل تھے، جو مکمل طور پر جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں۔

دوسری جانب، متاثرہ تاجروں نے انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی کارکردگی پر شدید ترین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کے سیکیورٹی نظام کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بروقت موقع پر نہیں پہنچیں اور اگر ریسکیو آپریشن فوری شروع ہوتا تو نقصان کو کم کیا جا سکتا تھا؛ اس کے علاوہ بازار میں آگ بجھانے کے لیے بنیادی حفاظتی انتظامات سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔

بازار کے صدر عبدالرحمان خان نے اس واقعے پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک منظم سازش قرار دے دیا ہے۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ آگ محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے شرپسند عناصر کی ایک گہری سازش معلوم ہوتی ہے، لہٰذا حکومت اور اعلیٰ سیکیورٹی ادارے اس واقعے کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات کرائیں اور ذمہ داروں کا تعین کر کے تاجروں کے اربوں روپے کے نقصان کا ازالہ کریں۔

امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے ایچ نائن بازار میں ہونے والے اس مالی المیے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ضلعی انتظامیہ اور کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کی کھلی ناکامی قرار دیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد کے سستے بازاروں میں بار بار آگ لگنے کے ایسے ہولناک واقعات کا رونما ہونا ملکی مینیجمنٹ پر سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عارضی اقدامات کے بجائے بازاروں میں مستقل اور جدید فائر فائٹنگ انفراسٹرکچر قائم کرے تاکہ مستقبل میں غریبوں کا روزگار تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

ضلعی انتظامیہ نے تاجروں کے مطالبات پر آگ لگنے کی اصل وجوہات کا سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر تعین کرنے کے لیے باقاعدہ تحقیقاتی کمیٹی قائم کر کے کام شروع کر دیا ہے۔