اسلام آباد: وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں نکتۂ اعتراض پر کڑک خطاب کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنے گزشتہ بیان پر معافی مانگنے کے مطالبات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری اور اپوزیشن کے تنقیدی بیانات کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے واشگاف الفاظ میں کہا "جناب اسپیکر! میں نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ٹویٹ بھی کیا تھا اور میں آج بھی اپنے کشمیر سے متعلق دیے گئے بیان پر پوری طرح قائم ہوں۔ انہوں نے جو بیانات دیے میں نے صرف اس کا ترکی بہ ترکی جواب دیا تھا اور جو بات کی، اس کی پوری دلیل بھی دی ہے۔”
وزیرِ دفاع نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے مزید کہا کہ صرف برتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ کوئی کشمیری یا پاکستانی نہیں بنتا؛ اگر کشمیریوں نے تحریکِ آزادی میں جانیں دی ہیں تو پاکستان نے بھی ان کے لیے جانیں دیں اور پانچ جنگیں لڑی ہیں، لیکن صلے میں اس ایوان کو کیا ملتا ہے؟
خواجہ آصف نے ایوان میں ملک کی سیاسی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو ماضی کی غلطیاں سدھارنے اور ایک نئے سیاسی فریم ورک کی طرف آنے کی دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے 90 کی دہائی میں بدترین سیاسی کشیدگی دیکھی جب مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دست و گریبان تھے اور اس ایوان میں مراد سعید جیسے اراکین میزوں کے اوپر دوڑتے تھے؛ لیکن میاں نواز شریف اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تلخیاں بھلائیں اور تاریخی ‘میثاقِ جمہوریت’ (Charter of Democracy) پر دستخط کیے۔
وفاقی وزیر نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئیں! اگر میثاقِ جمہوریت میں مزید کچھ ترامیم یا بہتری لانے کی ضرورت ہے تو ہم مل کر کرتے ہیں، آپ بھی ماضی کو درست کریں اور ہم بھی درست کرتے ہیں۔
انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا میں بے حد احترام کرتا ہوں، لیکن وہ تحریکِ انصاف کے اراکین کے درمیان بیٹھے بڑے عجیب و غریب لگتے ہیں۔
وفاقی وزیرِ دفاع نے بانی پی ٹی آئی عمران خان پر ملکی تاریخ کی بدترین تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور جمہوری روایات کو جتنا نقصان بانی پی ٹی آئی نے پہنچایا، اتنا پاکستان کی تاریخ میں کسی نے نہیں پہنچایا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جو لوگ آج آئین کی بالادستی کی باتیں کرتے ہیں، انہوں نے اسی ایوان میں عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے کے بجائے آرٹیکل 5 کا سہارا لے کر آدھے گھنٹے میں 55 قانون سازیاں کیں اور ایک شخص کی ایما پر اسپیکر کی کرسی کا غلط استعمال کرتے ہوئے پوری قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔
خواجہ آصف نے وزیراعظم کی سیاسی پختگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کل وزیراعظم شہباز شریف خود چل کر اپوزیشن لیڈر کے پاس گئے تھے، جبکہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا؛ اس وقت پی ٹی آئی کے اراکین عمران خان کے ڈر سے ہم سے ہاتھ ملانے اور بات کرنے سے بھی کتراتے تھے کہ کہیں ان کا لیڈر ان سے ناراض نہ ہو جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا ماضی شاید قابلِ رشک نہیں، لیکن ہم نے ہمیشہ اسے درست کرنے کی مخلصانہ کوشش کی ہے۔

