وزیراعظم اپنی ٹیم کو کنٹرول کریں، چند وزرا مشکلات پیدا کر رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں ملک کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال، بجٹ، بلدیاتی نظام اور وفاقی کابینہ کے رویوں پر ایک انتہائی جرات مندانہ اور تفصیلی خطاب کیا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی محنت اور اتحادیوں و اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی مثبت نیت کو دل کھول کر سراہا، تاہم انہوں نے وفاقی کابینہ میں موجود چند وزرا کے غیر ذمہ دارانہ رویوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

بلاول بھٹو نے نام لیے بغیر وزیرِ دفاع خواجہ آصف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے حساس مسائل کو حل کرنے کے لیے سیاسی انداز میں کوششیں کی جا رہی تھیں، لیکن ایک وفاقی وزیر نے وہاں آگ بجھانے کے بجائے اپنے بیانات سے اسے مزید بھڑکایا اور وہ اب تک معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے وزرا کیوں حکومت میں ہیں جو یہ کہیں کہ راولاکوٹ کے شہری کشمیری نہیں؟ وزیراعظم کو اپنی ٹیم کو سخت گرفت میں لینا چاہیے ورنہ وقت کے ساتھ ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

بلاول بھٹو زرداری نے اتحادی جماعت ایم کیو ایم (MQM) کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کراچی کے عوام کو مخاطب کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کراچی کے معاشی و ترقیاتی مسائل پیپلز پارٹی کی وجہ سے نہیں، بلکہ وفاقی کابینہ میں بیٹھے خود ایم کیو ایم کے وزرا کی وجہ سے ہیں جو اپنے ووٹرز سے غلط بیانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پی ڈی ایم (PDM) کے دوران جو معاہدہ ہوا تھا، اس میں خود ایم کیو ایم کے وزرا رکاوٹ بنے؛ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کراچی کے مسائل حل نہیں ہو رہے اور انہیں صرف ‘لالی پاپ’ دیا جا رہا ہے، تو وہ وزارتوں کی کرسیاں چھوڑیں اور حکومت سے الگ ہو جائیں۔

بلاول بھٹو نے مسلم لیگ ن پر بلدیاتی انتخابات سے خوفزدہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جو بلدیاتی نظام کراچی میں قائم ہے، ویسا ہی لاہور اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی لایا جائے تاکہ وہاں کا میئر زیادہ بااختیار ہو سکے۔

انہوں نے گلگت بلتستان میں پی پی پی کا مینڈیٹ تسلیم کرنے پر ن لیگ، آئی پی پی اور پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہاں 90 روز میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔

قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی نے امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) کی کامیابی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی مخلصانہ کوششوں کی بھرپور تائید کی۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ اور خطے کے تناؤ کی وجہ سے پاکستانی عوام پر شدید معاشی بوجھ پڑا ہے اور تہران واشنگٹن ڈیل سے یہ معاشی دباؤ کم ہوگا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کا تاریخی منصوبہ صدر آصف علی زرداری نے شروع کیا تھا اور اب حالات سازگار ہوتے ہی اسے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔

علاقائی سازشوں پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو پاکستان میں کوئی پکنک منانے نہیں آیا تھا، بلکہ وہ بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں اور دہشت گردوں کو فنڈنگ اور سپورٹ فراہم کر کے ملک کو غیر مستحکم کرنے آیا تھا، جس کا ہمیں سختی سے سدِباب کرنا ہوگا۔

انہوں نے حکومت سے عاشورہ سے قبل بجٹ بحث سمیٹنے اور اسے منظور کرنے کا بھی تقاضا کیا۔