ایران میں بغاوت کی اسرائیلی سازش بے نقاب؛ سابق وزیراعظم نفتالی بینٹ کا مظاہرین کے لیے اسٹار لنک ریسیورز اسمگل کرنے کا اعتراف

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینٹ (Naftali Bennett) نے ایک انتہائی چونکا دینے والا اور سنسنی خیز اعتراف کرتے ہوئے سیکیورٹی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں منعقدہ ہائی پروفائل ‘این ایس انٹرنیشنل پالیسی سمٹ’ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کے دورِ حکومت (2021 سے 2022) کے دوران اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کو باہمی رابطے، تنظیم سازی اور بالآخر ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کے قابل بنانے کے لیے دسیوں ہزار ‘اسٹار لنک’ (Starlink) انٹرنیٹ ریسیورز اسمگل کرنے کا ایک بڑا خفیہ آپریشن شروع کیا تھا۔

سابق برطانوی و اسرائیلی انٹیلیجنس نیٹ ورک کے تعاون سے بنائے گئے اس منصوبے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اگر ایرانی حکومت ملک میں لوکل انٹرنیٹ بند بھی کر دے، تب بھی مظاہرین کے لیے سوشل نیٹ ورکس اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی دستیابی مسلسل برقرار رہے، جس سے تہران کے خلاف احتجاجی تحریک کو ملک گیر بنایا جا سکے۔

نفتالی بینٹ نے اپنی ہی موجودہ ملکی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے موجودہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو (Benjamin Netanyahu) کو آڑے ہاتھوں لیا۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا "میں نے ایران میں لاکھوں ریسیپٹرز حاصل کر کے اسمگل کرنے کا عمل کامیابی سے شروع کر دیا تھا، مگر بدقسمتی سے موجودہ نااہل اسرائیلی حکومت نے اس تزویراتی عمل کو بیچ میں ہی روک دیا۔

یہی وجہ ہے کہ جب ایران میں دوبارہ احتجاج شروع ہوا تو مظاہرین کے لیے وہ بنیادی ڈھانچہ (انفراسٹرکچر) موجود نہیں تھا جو ہم نے ڈیزائن کیا تھا، اور نیتن یاہو اس منصوبے کو آگے بڑھانے میں بری طرح ناکام رہے۔”

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، نفتالی بینٹ جو کہ ایک دائیں بازو کی اسرائیلی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، وہ آنے والے اکتوبر 2026 کے عام انتخابات میں نیتن یاہو کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے چیلنج کرنے والے مضبوط ترین سیاستدانوں میں شامل ہیں، اور ان کا یہ بیان موجودہ حکومت کو گرانے کی سیاسی مہم کا حصہ ہے۔

دوسری جانب نیتن یاہو کے دفتر نے اس سنگین بیان پر گہری خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

واضح رہے کہ نفتالی بینٹ کے اس اعتراف نے بین الاقوامی سطح پر تہران کے ان دیرینہ موقف پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے جس میں ایران مسلسل اسرائیل اور امریکہ پر یہ الزامات عائد کرتا آیا ہے کہ وہ دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک (Elon Musk) کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنی ‘اسپیس ایکس’ (SpaceX) کی ملکیت اسٹار لنک ڈیوائسز کو غیر قانونی طور پر ملک میں اسمگل کر کے ایران کی قومی سلامتی کو درہم برہم کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، اس اعترافِ جرم کے بعد ایرانی سیکیورٹی اداروں نے ملک بھر میں غیر قانونی اسٹار لنک ریسیورز اور آلات کے خلاف ایک انتہائی سخت اور وسیع تر حکومتی کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے تاکہ بیرونی نیٹ ورکس کے ذریعے پھیلائے جانے والے اس ڈیجیٹل خطرے کا سدِباب کیا جا سکے۔