اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائل پروگرام کا کوئی ذکر نہیں، ایران کو دفاع کا پورا حق ہے، وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایک اعلیٰ سطح کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ (Islamabad MoU) کی کامیابیوں اور مستقبل کے جیو پولیٹیکل فریم ورک کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس میں وفود کی سطح پر ہونے والی تفصیلی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی طاقتوں کی منافقت اور دہرے معیار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے واضح اور دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والے امن معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا دور دور تک کوئی ذکر نہیں ہے، اور یہ معاملہ مذاکراتی ایجنڈے کا کبھی حصہ تھا ہی نہیں؛ لہٰذا عالمی برادری کو اس معاملے پر دہرا معیار اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

وزیراعظم نے سوال اٹھایا "اگر دنیا کے دیگر ممالک اپنے دفاع کے لیے بیلسٹک میزائل رکھ سکتے ہیں، تو ایران اپنے دفاع کے لیے یہ حق کیوں نہیں استعمال کر سکتا؟ یہ ایسی منافقت ہے جسے ہضم نہیں کیا جا سکتا۔”

پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے خبردار کیا کہ دنیا بھر میں ایسے شرپسند عناصر اور امن دشمن موجود ہیں جو اس تاریخی امن معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، لیکن پاکستان اور ایران کا یہ پختہ عزم ہے کہ وہ اس معاہدے کو خراب کرنے والوں کے سامنے ایک آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہوں گے۔

انہوں نے تہران اور واشنگٹن کے مابین جنگ بندی کو ممکن بنانے کے لیے پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی ان تھک محنت، دور اندیشی اور عسکری سفارتکاری کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے تعمیری کردار کو بھی سراہا۔

وزیراعظم نے ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر دلی تعزیت کی اور کہا کہ ایران کی کامیابی پاکستان کی کامیابی اور اس کا نقصان ہمارا نقصان ہے۔

انہوں نے امن عمل کی بھرپور حمایت کرنے پر امیرِ قطر، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور مصری قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے واشنگٹن اور عالمی برادری کو واضح پیغام دیا کہ ایران اپنے قومی بیلسٹک میزائل پروگرام پر کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ یا سودے بازی نہیں کرے گا۔

انہوں نے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امن کوششوں کی دل کھول کر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات "یک جان دو قالب” کی مانند ہیں اور دونوں ممالک ایک مشترکہ منزل کے شراکت دار ہیں۔

انہوں نے مشکل ترین سفارتی بحران کے دوران ایران کا ہاتھ تھامنے پر پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

قبل ازیں، ایرانی صدر کی وزیراعظم ہاؤس آمد پر مسلح افواج کے چاک و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا اور معزز مہمان کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔