لاس اینجلس: فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے گروپ جی (Group G) کے ایک انتہائی اعصاب شکن اور سنسنی خیز مقابلے میں ایشیائی جائنٹ ایران اور یورپی ہیوی ویٹ بیلجیئم کے درمیان کھیلا گیا ہائی پروفائل میچ بغیر کسی گول کے صفر صفر (0-0) سے ڈرا ہو گیا ہے۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس کے کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس شاندار میچ میں دونوں ٹیموں کی جانب سے دلفریب اور جارحانہ فٹبال کا مظاہرہ کیا گیا، تاہم دونوں ممالک کی مضبوط دفاعی لائن اور خاص طور پر گول کیپرز حریف فارورڈز کے سامنے لوہے کی دیوار ثابت ہوئے۔
اس اہم میچ کے ڈرا ہونے کے بعد بیلجیئم اور ایران نے ٹورنامنٹ میں اپنے دونوں ابتدائی میچز ڈرا کھیلے ہیں، جس کے بعد گروپ جی کے پوائنٹس ٹیبل پر دونوں ٹیموں کے دو، دو پوائنٹس ہو گئے ہیں اور ناک آؤٹ مرحلے کی دوڑ مزید دلچسپ ہو گئی ہے۔
میچ کے پہلے ہاف میں ایران کی ٹیم کو اس وقت ایک سنہری سبقت مل جاتی جب کھیل کے 28 ویں منٹ میں ایک بہترین فری کک پر ایرانی فارورڈ نے گیند کو گھماتے ہوئے بیلجیئم کے گول پوسٹ کے جال میں پہنچا دیا تھا، تاہم فیلڈ ریفری نے ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) کی مدد سے ایرانی کھلاڑی کو آف سائیڈ (Off-side) قرار دے کر اس خوبصورت گول کو یکسر مسترد کر دیا، جس پر ایرانی کھلاڑیوں نے شدید احتجاج بھی کیا۔
اگرچہ پورے میچ میں بال پوزیشن کے لحاظ سے بیلجیئم کی اسٹار لائن اپ کا پلہ بھاری رہا، لیکن ایرانی دفاعی کھلاڑیوں اور بالخصوص ان کے نامور گول کیپر علی رضا (Alireza) کا کوئی جواب نہ تھا۔
علی رضا نے پورے میچ میں بیلجیئم کے ورلڈ کلاس اسٹرائیکرز کے کئی یقینی گول بچائے، لیکن دوسرے ہاف میں بیلجیئم کے ایک خطرناک کاؤنٹر اٹیک پر انہوں نے ڈائیونگ کرتے ہوئے جس مایہ ناز انداز میں حملہ روکا، اسے بین الاقوامی فٹبال ماہرین اور مبصرین نے متفقہ طور پر اب تک کا "سیو آف دی ٹورنامنٹ” (Save of the Tournament) قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، بیلجیئم کے تجربہ کار اور دنیا کے بہترین گول کیپرز میں شمار ہونے والے تھباؤ کورٹوا (Thibaut Courtois) نے بھی اپنی روایتی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایرانی ٹیم کے تیز رفتار حملوں کو ناکام بنایا اور اپنی ٹیم کو کسی امکانی خفت سے بچایا۔
میچ کے دوسرے ہاف میں اس وقت ڈرامائی صورتحال پیدا ہو گئی جب ایران کے کلاسک کاؤنٹر اٹیک کو روکنے کے لیے بیلجیئم کے ایک سینیئر ڈیفینڈر نے شدید اور خطرناک فاؤل کیا، جس پر ریفری نے سخت ایکشن لیتے ہوئے انہیں فوری طور پر ریڈ کارڈ (Red Card) دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا۔
10 کھلاڑیوں تک محدود ہونے کے باوجود بیلجیئم نے اپنے دفاع کو کمزور نہیں ہونے دیا اور میچ کے آخری لمحات تک ایران کو گول کرنے کا کوئی موقع نہ دیا۔
دونوں ٹیموں کی بھرپور کوششوں کے باوجود یہ شاندار مقابلہ بغیر کسی گول کے اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔

