تہران: سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی ثالثی کے تحت ہونے والے برگن اسٹاک مذاکرات کے فوری بعد ایک تاریخی اور انتہائی اہم عالمی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران پر عائد خام تیل، پیٹرولیم اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، فروخت اور ترسیل پر لگی سخت اقتصادی پابندیاں عارضی طور پر اٹھانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ (US Department of the Treasury) نے اس بریک تھرو کے بعد ایک خصوصی 60 روزہ عارضی جنرل لائسنس جاری کیا ہے، جس کے تحت ایران کو 21 اگست 2026 تک بین الاقوامی مارکیٹ سمیت خود امریکہ کے اندر بھی اپنا خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات برآمد (امپورٹ) کرنے اور اس سے حاصل ہونے والی معاشی آمدنی تک رسائی کی اجازت دیدی گئی ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک اہم بیان میں تصدیق کی ہے کہ یہ عارضی ریلیف سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے مابین ہونے والے تعمیری مذاکرات کے فریم ورک کے تحت دیا گیا ہے۔
عالمی سفارتی اور معاشی ذرائع کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی انتظامیہ نے یہ نرمی ایران کی جانب سے دو انتہائی اہم اور تزویراتی شرائط پر عملدرآمد کی یقین دہانی کے بعد دی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، تہران نے عالمی برادری کو یہ ضمانت فراہم کی ہے کہ وہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) میں بین الاقوامی آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کی آزاد اور بلا رکاوٹ آمدورفت کو یقینی بنائے گا، جبکہ اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کو اپنے ملک میں داخلے اور ایٹمی تنصیبات کے معائنے کی باقاعدہ اجازت بھی دی جائے گی۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد حتمی معاہدے سے قبل طے پانے والے فریم ورک پر عملدرآمد کو سہولت فراہم کرنا اور ایران کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کا موقع دینا ہے، تاہم اس عارضی رعایت کی مہم کا مستقبل ایران کے وعدوں پر عملدرآمد پر منحصر ہوگا۔
معاشی ماہرین اور بین الاقوامی اسٹریٹجک تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کے اس بڑے فیصلے سے توانائی کی عالمی منڈی پر انتہائی مثبت اور گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، کیونکہ ایران دنیا کا ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔
ایران کی عالمی منڈی میں باقاعدہ واپسی کے ساتھ ہی سپلائی کے خدشات دم توڑ گئے ہیں، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں یکدم نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور آنے والے دنوں میں پیٹرول و ڈیزل مزید سستا ہونے کا قوی امکان پیدا ہو گیا ہے۔
دوسری جانب، تجزیہ کار اسے مکمل پابندیوں کا خاتمہ نہیں بلکہ واشنگٹن کی جانب سے ایک عارضی اور انتہائی محدود نوعیت کا ریلیف قرار دے رہے ہیں، جس کے تحت تمام تر مالیاتی لین دین کو امریکی قوانین کے سخت ضابطوں کے مطابق ہی انجام دیا جا سکے گا۔
واضح رہے کہ آج ہی جنیوا میں دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیموں کے مابین طے شدہ نکات پر تبادلہ خیال کے لیے پہلے باضابطہ دور کا آغاز بھی ہو گیا ہے، جس کی مانیٹرنگ خود عالمی طاقتیں کر رہی ہیں۔

