لندن: برطانیہ کی سیاست میں ایک بار پھر زبردست بھونچال آ گیا ہے جہاں تاریخی عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آنے والے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر (Keir Starmer) نے شدید اندرونی سیاسی دباؤ اور اپنی ہی لیبر پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ کی بغاوت کے بعد بالآخر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ (10 Downing Street) کے باہر ایک ہنگامی پریس بریفنگ کے دوران الوداعی خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم انتہائی آبدیدہ ہو گئے اور ان کی آواز جذبات کی شدت سے بھر گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی اپنی پارلیمانی پارٹی اب یہ سمجھتی ہے کہ وہ اگلے عام انتخابات میں پارٹی کی قیادت کے لیے موزوں ترین شخصیت نہیں رہے، اور وہ پارٹی کی اس خواہش کو کھلے دل اور احترام کے ساتھ قبول کرتے ہوئے قیادت اور وزارتِ عظمیٰ سے الگ ہو رہے ہیں۔
اپنے الوداعی خطاب میں کیئر اسٹارمر نے اپنے دو سالہ دورِ اقتدار کی کامیابیوں کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے 6 سال پہلے لیبر پارٹی کی کمان سنبھالی تو وہ سیاسی، مالی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکی تھی، لیکن انہوں نے پارٹی کو بحال کر کے جولائی 2024 کے عام انتخابات میں 14 سالہ کنزرویٹو اقتدار کا خاتمہ کیا اور ایک تاریخی فتح حاصل کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو سالوں میں ان کی حکومت نے برطانوی معیشت کو مستحکم کیا، مہنگائی کے مقابلے میں اجرتوں میں اضافہ کیا اور بین الاقوامی سطح پر برطانیہ کا وقار بحال کیا۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ تبدیلیاں راتوں رات نہیں آتیں بلکہ وقت درکار ہوتا ہے، تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ نئے آنے والے وزیراعظم کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے تاکہ اقتدار کی منظم اور ہموار منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے جذباتی انداز میں کہا: "وزارتِ عظمیٰ کا حلف میری زندگی کا عظیم ترین لمحہ تھا، اب میں دنیا کے اس سب سے بڑے کام کو چھوڑ کر اپنی زندگی کے سب سے اہم کام یعنی ایک بہترین شوہر اور بہترین باپ بننے پر توجہ مرکوز کروں گا۔”
واضح رہے کہ کیئر اسٹارمر گزشتہ ایک دہائی کے دوران مستعفی ہونے والے برطانیہ کے چھٹے وزیراعظم بن گئے ہیں، جو برطانوی سیاست میں عدم استحکام کی گہری جڑوں کو ظاہر کرتا ہے۔
حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا تھا کہ کیئر اسٹارمر امیگریشن اور انرجی (شمالی سمندر کے تیل و گیس ذخائر) کی ناکام پالیسیوں کے باعث شدید سیاسی دباؤ میں ہیں اور جلد مستعفی ہو جائیں گے، جو اب سچ ثابت ہو گیا ہے۔
اس کے علاوہ، کیئر اسٹارمر کو امریکی سفیر پیٹر مینڈلسن کے بدنام زمانہ ‘ایپسٹین کیس’ (Epstein Scandal) کے ساتھ روابط کے انکشافات اور حال ہی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو پہنچنے والے شدید دھچکے کے بعد کابینہ کے وزراء کے شدید دباؤ کا سامنا تھا۔
کیئر اسٹارمر کے مطابق، انہوں نے اپنے فیصلے سے برطانوی بادشاہ کنگ چارلس III کو باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔
لیبر پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی 9 جولائی سے نئے قائد کے انتخاب کے عمل کا آغاز کرے گی، اور جب تک یہ عمل مکمل نہیں ہو جاتا، کیئر اسٹارمر عارضی طور پر وزیراعظم کے عہدے پر برقرار رہیں گے تاکہ جولائی میں ہونے والے اہم نیٹو (NATO) سربراہی اجلاس میں برطانیہ کی نمائندگی کر سکیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق، اس وقت نئے وزیراعظم کی دوڑ میں گریٹر مانچسٹر کے مقبول میئر اینڈریو برنہم (Andy Burnham) سب سے مضبوط امیدوار بن کر ابھرے ہیں جنہیں پارٹی کے بڑے دھڑوں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔

