2018 کے الیکشن کی تحقیقات کروا لیں، اگر پی ٹی آئی کی حکومت آئینی تھی تو ہماری حکومت بھی آئینی ہے، وزیراعظم
اسلام آباد: وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اہم ترین بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جہاں ملک کو درپیش سیاسی و معاشی چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی، وہاں عالمی سطح پر پاکستان کی ایک بہت بڑی اور تاریخی سفارتی کامیابی کا اعلان بھی کیا۔
وزیراعظم نے ایوان کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں پاکستان کی میزبانی اور مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے مابین ایک تاریخی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط ہو چکے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک میں باقاعدہ جنگ بندی ہو گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس ایم او یو کے تحت آئندہ 60 روز کے اندر دونوں طاقتوں کے مابین تکنیکی مذاکرات کا آغاز ہوگا، جس کے بعد وہ ایک مستقل عالمی امن معاہدے تک پہنچیں گے۔
وزیراعظم نے اس مایہ ناز کامیابی پر پورے ایوان اور پاکستانی قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے مقتدر اخبارات اور عالمی میڈیا پاکستان کی اس کامیاب ترین جیو پولیٹیکل سفارتکاری کی تعریفیں کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کی جانب سے عائد کردہ الزامات اور موجودہ حکومت کو "غیر قانونی و غیر آئینی” کہنے پر اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا۔
اپوزیشن اراکین کے واک آؤٹ کے بعد ایوان کو متبادل حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے چیلنج کیا کہ گزشتہ انتخابات اور سال 2018 کے الیکشن، دونوں کی بیک وقت غیر جانبدارانہ تحقیقات کروا لی جائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔
انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا 2018 کے انتخابات میں بھرپور جادوگری، بیلٹ بکسے بھرنے، دھمکیاں دینے اور لوگوں کو پٹے پہنا کر حکومت سازی کرنے کا عمل جائز تھا؟
اگر 2018 کی وہ حکومت آئینی اور جائز تھی تو موجودہ حکومت بھی اتنی ہی آئینی اور قانونی حیثیت رکھتی ہے؛ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ماضی کے انتخابی عمل پر بحث چھڑی تو بات بہت دور تلک جائے گی اور تمام تر چھپے حقائق قوم کے سامنے آ جائیں گے۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے صوبوں سے متعلق اٹھائے گئے اعتراضات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ان کی تقریر کا ریکارڈ نکال کر دیکھ لیا جائے، انہوں نے کبھی بھی کسی صوبے کے خلاف بات نہیں کی بلکہ ہمیشہ چاروں صوبوں کی یکساں تعریف کی ہے۔
انہوں نے اپنے معاشی و سیاسی وژن کو دہراتے ہوئے کہا: "جب تک پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان ترقی کی اس دوڑ میں برابر کے شریک نہیں ہوں گے، تب تک وہ حقیقی معنوں میں پاکستان کی ترقی نہیں کہلا سکتی۔”
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اپوزیشن لیڈر نے ان کے اس مثبت بیان کو دانستہ طور پر غلط رنگ دینے کی کوشش کی۔
شہباز شریف نے اپوزیشن کو مخلصانہ مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آج کا دن داخلی اختلافی معاملات اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اٹھانے کا بالکل نہیں ہے کیونکہ آج ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان تشریف لا رہے ہیں اور پوری قوم کو ان کے شاندار استقبال کی تیاری کرنی چاہیے۔
انہوں نے اس دورے کو پاک ایران تعلقات کے مستقبل کے لیے ایک انتہائی اہم میل کا پتھر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے دور رس اور تزویراتی فیصلے کیے جائیں گے۔
وزیراعظم کے اس پرجوش خطاب کے دوران حکومتی اراکین نے مسلسل ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا اور ملک کی خارجہ پالیسی کے اس نئے رخ کو سراہا۔

