نیویارک: فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے ایک انتہائی ہائی پروفائل اور سنسنی خیز مقابلے میں ارجنٹائن کے ہاتھوں صفر کے مقابلے میں تین (0-3) گول سے شکست کھانے کے بعد، الجیرین فٹبال فیڈریشن نے میچ آفیشلز (ریفریز) کی کارکردگی اور یکطرفہ فیصلوں پر شدید ترین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی ‘فیفا’ کی ریفریز کمیٹی میں ایک باضابطہ اور سخت احتجاجی شکایت جمع کرا دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، الجیریا نے اپنی دستاویزی شکایت میں خاص طور پر پہلے ہاف کے دوران پیش آنے والے ایک ایسے سنگین واقعے کا ویڈیو ثبوتوں کے ساتھ حوالہ دیا ہے، جس نے پورے میچ کا رخ بدل کر رکھ دیا۔
اس واقعے میں ارجنٹائن کے عالمی شہرت یافتہ کپتان لیونل میسی (Lionel Messi) گیند چھیننے کی کوشش میں مبینہ طور پر الجیریا کے کپتان عیسیٰ ماندی (Aissa Mandi) کی پنڈلی پر خطرناک حد تک چڑھ گئے تھے، جو فٹبال قوانین کے تحت سیدھا ریڈ کارڈ کا کیس تھا۔
میدان میں موجود الجیریا کے کھلاڑیوں اور اسٹیڈیم میں بیٹھے ہزاروں شائقین نے اس موقع پر فوری طور پر میسی کے خلاف سخت عسکری کارروائی اور ریڈ کارڈ دکھانے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم گراؤنڈ ریفری اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) نے اس واضح فاؤل کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے سٹار کھلاڑی کو کسی بھی قسم کی سزا دینے سے گریز کیا۔
ریفری کا یہ فیصلہ الجیریا کو بہت مہنگا پڑا کیونکہ میسی بعد ازاں اسی میچ میں اپنی جادوئی فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار ہیٹ ٹرک اسکور کرنے میں کامیاب رہے اور ارجنٹائن کی یکطرفہ فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ میچ کے فوری بعد فٹبال تجزیہ کاروں اور مبصرین نے بھی لائیو ٹی وی اسٹوڈیوز میں میسی کو میدان بدر (Red Card) نہ کیے جانے پر شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے میچ کا سب سے بڑا بلنڈر قرار دیا تھا۔
الجیریا نے اپنی فیفا کو بھیجی گئی باضابطہ شکایت میں ایک اور متنازع واقعے کی بھی نشاندہی کی ہے جس میں ارجنٹائن کے مڈفیلڈر الیکسس میک ایلسٹر (Alexis Mac Allister) پر واضح الزام ہے کہ انہوں نے کھیل کے دوران الجیرین کھلاڑی ابراہیم مازا کے چہرے پر جان بوجھ کر کہنی ماری، لیکن حیران کن طور پر اس سنگین فاؤل پر بھی فیلڈ ریفری کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔
اس پورے معاملے نے سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں دنیا بھر کے فٹبال صارفین اور ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا لیونل میسی کی عالمی شہرت اور برانڈ ویلیو نے ریفری کے اعصاب اور فیصلوں پر دباؤ بڑھایا۔
دوسری جانب، اس سفارتی جنگ میں الجیریا کو اس وقت مزید اخلاقی تائید حاصل ہوئی جب جنوبی افریقا کی قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیوگو بروس (Hugo Broos) نے بھی اس متنازع معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے ٹورنامنٹ میں اپنے کھلاڑی کو دی گئی ایک سخت سزا پر سخت اعتراض اٹھایا اور کہا کہ فیفا کے قوانین تمام ٹیموں اور اسٹارز کے لیے یکساں ہونے چاہئیں۔

