اسلام آباد: حکومتِ پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ تاریخی کمی کے بعد اب پیٹرول اور ڈیزل کی موجودہ قیمتوں پر وصول کیے جانے والے ٹیکسوں اور لیویز کی مکمل تفصیلات منظرِ عام پر آ گئی ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن کے معتبر ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق، اس وقت ملک میں فروخت ہونے والے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں تقریباً 29 فیصد حصہ صرف ٹیکسوں کی مد میں شامل ہے۔
اس بریک ڈاؤن کے تحت، ایک لیٹر پیٹرول خریدنے پر ملک کا عام شہری مجموعی طور پر 88 روپے 07 پیسے کا ٹیکس براہِ راست قومی خزانے میں جمع کروا رہا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر یہ ٹیکس بوجھ اس سے بھی زیادہ ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت (جو کہ اس وقت 299 روپے 50 پیسے ہے) میں 19 روپے 32 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 66 روپے 25 پیسے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) اور 2 روپے 50 پیسے کی نئی ‘کلائمیٹ سپورٹ لیوی’ شامل کی گئی ہے۔
دوسری جانب، اگر ڈیزل کی بات کی جائے تو اس کی فی لیٹر قیمت میں کل 91 روپے 15 پیسے کے ٹیکسز نافذ العمل ہیں۔
ڈیزل کی موجودہ قیمت میں 15 روپے 68 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 72 روپے 97 پیسے کی بھاری پیٹرولیم لیوی اور پیٹرول کی طرح 2 روپے 50 پیسے کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فنڈز اکٹھے کرنا ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل ہی وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے عوام کو ایک بڑا معاشی ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے 28 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے 31 پیسے فی لیٹر کی مایہ ناز کمی کا اعلان کیا تھا۔
اس بڑی کٹوتی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 299 روپے 50 پیسے جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 311 روپے 47 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ عالمی مارکیٹ کے تناسب سے یہ کمی خوش آئند ہے، مگر پیٹرولیم مصنوعات پر 29 فیصد ٹیکس کی شرح برقرار رہنے سے اندرونِ ملک مہنگائی کی شرح کو یکدم نیچے لانا ایک بڑا چیلنج رہے گا۔
اس حوالے سے وزیرِخزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپنی معاشی سمت واضح کر دی ہے اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اب غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ کے دائرے میں لانے پر پوری توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

