امریکہ ایران معاہدے پر اسرائیلی میڈیا صدر ٹرمپ پر پھٹ پڑا؛ "ڈونلڈ حسین ٹرمپ” کا نام دے دیا

تل ابیب: امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن و جنگ بندی معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر اسرائیل کے اندر شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور اب نہ صرف نیتن یاہو حکومت بلکہ اسرائیلی میڈیا بھی کھل کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف میدان میں آ گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، خطے میں مزید عسکری محاذ کھولنے سے گریز اور ایران کے ساتھ سفارتی ڈیل کرنے کے امریکی مؤقف پر اسرائیلی ٹی وی چینلز اور مبصرین شدید نالاں ہیں۔

غصے اور مایوسی کی انتہا کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مقتدر اسرائیلی میڈیا کے لائیو شو پریزنٹر (ٹی وی ہوسٹ) نے اپنے تجزیے میں امریکی صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے طنزیہ طور پر کہا کہ "یہ ڈونلڈ ٹرمپ نہیں ہیں بلکہ اب ‘ڈونلڈ حسین ٹرمپ’ بن چکے ہیں”۔

ناقدین کا دعویٰ ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اسی غیر متوقع دباؤ کی وجہ سے اسرائیل تہران، غزہ اور بیروت میں اپنے تزویراتی عسکری اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔