سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنی ہی حکومت کے بجٹ کا پوسٹ مارٹم کر دیا

پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران ایک انتہائی غیر معمولی اور چونکا دینے والا منظر نامہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے سینیئر رہنما اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنی ہی موجودہ صوبائی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور بجٹ کا تفصیلی ‘پوسٹ مارٹم’ کر دیا۔

ایوان سے ایک طویل اور شعلہ فشاں خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ نے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، ترقیاتی ترجیحات اور بجٹ کے داؤ پیچ پر کھل کر سوالات اٹھائے۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اربوں روپے کے منصوبوں کے لیے بجٹ میں محض چند ہزار یا کروڑ روپے مختص کرنا عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے؛ اس ناقص حکمتِ عملی کے باعث "آگے دوڑ، پیچھے چھوڑ” کی پالیسی جنم لے رہی ہے اور یہ ادھوری عسکری و سویلین اسکیمیں مستقبل میں خود تحریکِ انصاف کے اراکینِ اسمبلی کے گلے کا پھندا بنیں گی۔

علی امین گنڈاپور نے بجٹ دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کا تھرو فارورڈ (Under-construction projects کا بوجھ) اس حد تک بڑھا دیا گیا ہے کہ ‘خوشحال ہزارہ’ جیسے بڑے پیکیج، جس کے لیے 200 ارب روپے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بجٹ میں صرف 4 ارب روپے رکھے گئے، اب اگلے 100 سال میں بھی مکمل ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔

اسی طرح قبائلی اضلاع (سابق فاٹا) میں دو ارب کی اسکیم کے لیے صرف دو کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ انہوں نے موجودہ کابینہ کو خبردار کیا کہ عوام اب تختیوں، بینرز اور افتتاحی تقریبات سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ وہ عملی ڈیلیوری دیکھتے ہیں۔

گنڈاپور نے اعتراف کیا کہ میں نے اپنی زندگی میں 8 بجٹ بنائے ہیں، اس لیے مجھے کوئی گھوما نہیں سکتا۔

زراعت پر صوبے کی 69 فیصد آبادی کا انحصار ہے مگر اسے بجٹ کا صرف 5 فیصد دیا گیا، اور جن اسکیموں کو فوری مکمل ہونا تھا ان کے فنڈز کہیں اور منتقل کر دیے گئے جو کہ خالصتاً اس معزز ایوان کی توہین ہے۔

سابق وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر میں ایک بڑا سیاسی اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پرویز خٹک، محمود خان اور خود ان کے اپنے دورِ حکومت میں اپوزیشن کے حلقوں کو نظرانداز کرنا اور فنڈز صرف اپنی پارٹی کے ورکرز کو دینا ایک بدترین سیاسی غلطی تھی۔

انہوں نے حکومتی اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے ماضی میں غلطی کی تھی، آپ موجودہ دور میں وہ غلطی ہرگز نہ دہرائیں اور وسائل کی تقسیم میں تمام علاقوں کے ساتھ انصاف کریں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں وہ کبھی محکموں اور کبھی حکومت کا دفاع کرنے کی وجہ سے بندھے ہوئے تھے، لیکن آج وہ خود کو زیادہ آزاد محسوس کر رہے ہیں اور حقائق کھل کر بیان کر رہے ہیں کیونکہ فرسودہ نظام کو بدلے بغیر حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔

گنڈاپور نے وفاق سے صوبے کا حق (نیٹ ہائیڈل پرافٹ اور این ایف سی ایوارڈ) نہ لے پانے کو بھی حکومت کی اجتماعی نااہلی قرار دیا۔

سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے مطالبہ کیا کہ جس معاشرے میں انصاف نہ ہو وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔

انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قید کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں انہیں وہ تمام قانونی اور انسانی حقوق دیے جائیں جن کے وہ حقدار ہیں، بشمول ٹی وی اور اخبارات تک رسائی۔

انہوں نے اپوزیشن کو یاد دلایا کہ "آج میرا لیڈر جیل میں ہے تو کل آپ کا لیڈر بھی وہاں ہو سکتا ہے، اس لیے ہمیں اس سیاسی دشمنی اور انتقامی کارروائیوں کے ماحول کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا۔”

انہوں نے فخر سے بتایا کہ انہوں نے اپنے دو سالہ دورِ اقتدار میں صوبے کے نام پر کوئی نیا قرضہ نہیں لیا اور موجودہ حکومت کو بھی مشورہ دیا کہ قرض صرف ایسے منصوبوں کے لیے لیا جائے جو مستقبل میں ریونیو پیدا کر کے صوبے کو معاشی طور پر خودکفیل بنا سکیں۔