اسلام آباد مفاہمتی یادداشت؛ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے

زیورخ: پاکستان کی کامیاب اور مخلصانہ سفارتکاری کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے کی تزویراتی کوششیں اپنے آخری اور فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ (Islamabad MoU) کے تسلسل میں ہونے والے تکنیکی سطح (Technical Level) کے انتہائی اہم مذاکرات میں شرکت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔

وزیراعظم آفس کی طرف سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف کا طیارہ سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ اترا، جہاں سے وہ وفد سمیت مذاکرات کے مرکزی مقام یعنی الپائن ریزورٹ برگن اسٹاک (Bürgenstock) پہنچے۔

اس اہم ترین وفد میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی بھی شامل ہیں، جو بطور میزبان اور ثالث اس عالمی امن مشن کا حصہ بنیں گے۔

ترجمان دفترِ خارجہ پاکستان کے مطابق، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے بعد یہ تکنیکی مذاکرات فریقین کے مابین طے پانے والے 14 نکات کو عملی جامہ پہنانے اور ان پر تیز ترین عملدرآمد کا باضابطہ رستہ تلاش کرنے کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف برگن اسٹاک میں مذاکرات کی سائیڈ لائنز پر امریکی اور ایرانی وفود کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی سہولت کاروں سے الگ الگ انتہائی اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

یہ ملاقاتیں امریکہ ایران مفاہمت پر عملدرآمد کو عالمی سطح پر مؤثر بنانے اور اب تک پیدا ہونے والے سفارتی تعطل کو دور کرنے میں کلیدی ثابت ہوں گی۔

ترجمان نے اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں طویل مدتی امن، پائیدار خوشحالی اور استحکام کے لیے دونوں ممالک کے مابین سفارتی پیش رفت کو عملی شکل دینے میں اپنا غیر مشروط اور تعمیری کردار پوری قوت سے جاری رکھے گا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، سوئٹزرلینڈ کا برگن اسٹاک ریزورٹ اس وقت عالمی قیادت کی آمد کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

امریکی وفد کی قیادت کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر (Jared Kushner) اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف پہلے ہی وہاں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب، اسلامی جمہوریہ ایران کا انتہائی بااختیار اور ہائی پروفائل وفد بھی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں سوئٹزرلینڈ پہنچ چکا ہے، جس میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے بین الاقوامی امور کے نائب علی باقری، ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر ہمتّی، کاظم غریب آبادی اور ترجمانِ دفترِ خارجہ اسماعیل بقائی سمیت ملک کے اعلیٰ ترین عسکری، معاشی اور پیٹرولیم حکام شامل ہیں۔

ماہرینِ ہوا بازی اور بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے یہ تکنیکی مذاکرات خلیج میں بحری ناکہ بندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی اور آبنائے ہرمز کی مستقل سیکیورٹی جیسے اہم ترین تصفیوں کا حتمی شیڈول طے کریں گے۔