امریکہ ایران مذاکرات تعطل کا شکار؛ صدر ٹرمپ کی دوبارہ حملوں کی دھمکی پر ایرانی وفد کا واک آؤٹ اور شدید احتجاج

برگن اسٹاک: پاکستان اور قطر کی مخلصانہ ثالثی کے تحت سوئٹزرلینڈ کے الپائن ریزورٹ برگن اسٹاک میں جاری امریکہ اور ایران کے تکنیکی مذاکرات ایک بار پھر شدید بحران اور تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) پر عملدرآمد کے لیے جاری اس اہم ترین اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دوبارہ فوجی حملے شروع کرنے کی براہِ راست دھمکی پر ایرانی وفد نے سخت ترین احتجاج کیا ہے اور وہ احتجاجاً مذاکرات کے مقام سے واک آؤٹ کر کے دور چلے گئے ہیں۔

ایرانی وفد اب مذاکرات میں مزید شرکت یا عدم شرکت کے حوالے سے تہران سے ملنے والے اگلے اعلیٰ سطحی فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، یہ بحران اس وقت پیدا ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی کا نام لیے بغیر ایران کو کڑی دھمکی دی کہ وہ لبنان میں بھاری معاوضوں والی اپنی پراکسیز کو حالات خراب کرنے سے روکے، اور اگر تہران نے ایسا نہ کیا تو امریکی فوج پہلے سے بھی زیادہ شدت اور تباہ کن انداز کے ساتھ دوبارہ حملے شروع کر دے گی۔

صدر ٹرمپ کا یہ متنازع بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب دونوں ممالک کی ٹیکنیکل ٹیمیں جنیوا اور برگن اسٹاک میں 14 نکات پر عملدرآمد کا باضابطہ رستہ تلاش کرنے میں مصروف تھیں۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی یہ گیدڑ بھبکی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ کے وعدوں کی براہِ راست خلاف ورزی ہے، جس کی پہلی ہی شق کے مطابق دونوں فریق اس بات کے پابند ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کسی جنگ، طاقت کے استعمال یا فوجی کارروائی کی دھمکی سے مکمل گریز کریں گے۔

ایرانی پریس ٹی وی (Press TV) اور نیم سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق، پاکستان اور قطر کی ثالثی میں شروع ہونے والا مذاکرات کا پہلا دور محض 80 منٹ تک جاری رہ سکا۔

اس دور کے بعد جب وفود نے داخلی مشاورت کے لیے وقفہ لیا، تو ٹرمپ کا بیان سامنے آتے ہی ایرانی وفد نے امریکی حکام کے سامنے باضابطہ طور پر اپنا شدید ترین احتجاج ریکارڈ کروایا اور میز چھوڑ کر چلے گئے۔

وقفے کے دوران ایرانی اور قطری وفود کے درمیان الگ سے اہم ترین مشاورت بھی ہوئی ہے جہاں صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر کی اس تند و تیز دھمکی کے جواب میں ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف (Mohammad Baqer Qalibaf) نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کرارا جواب دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ڈونلڈ ٹرمپ یہ نہیں سوچتے کہ اگر ان کی کھوکھلی دھمکیوں کا کوئی اثر ہونا ہوتا، تو وہ آج اس مایوسی کی حالت تک نہ پہنچتے۔ ہم امریکی دھمکیوں کو رتی برابر اہمیت نہیں دیتے اور بہتر ہوگا کہ ٹرمپ اپنے بیانات میں احتیاط برتیں۔”

انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے اپنی دھوکا دہی کا سلسلہ جاری رکھا تو ایرانی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا مختلف اور بدترین انداز میں جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

اس سفارتی تعطل نے پاکستان اور قطر کی امن کوششوں کو بڑا جھٹکا پہنچایا ہے اور مشرقِ وسطیٰ دوبارہ جنگ کے بادلوں کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔