اسرائیلی عوام نے نیتن یاہو کی جنگی حکمتِ عملی مسترد کر دی؛ 92 فیصد اسرائیلیوں کا اعتراف، "جنگ میں ایران فاتح رہا”
یروشلم: مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ ہولناک جنگ اور اس کے بعد امریکہ و ایران کے مابین طے پانے والے تاریخی امن معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) کے بعد اسرائیل کے اندر ایک بہت بڑا سیاسی و سماجی زلزلہ برپا ہو گیا ہے۔
مقبوعہ بیت المقدس کی مقتدر ‘عبرانی یونیورسٹی آف یروشلم’ اور ‘آگام انسٹی ٹیوٹ’ کی جانب سے کیے گئے ایک نئے اور انتہائی جامع مشترکہ عوامی سروے کے چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے ہیں، جس کے مطابق 92.1 فیصد اسرائیلی شہریوں نے کھلے عام یہ اعتراف کیا ہے کہ اس پورے عسکری و سفارتی تنازع میں ایران ایک فاتح (فاتحِ اعظم) بن کر ابھرا ہے اور اسے اسرائیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ تزویراتی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ (AFP) کی رپورٹ کے مطابق، 17 سے 20 جون کے درمیان کیے گئے اس سروے میں 3,644 اسرائیلی شہریوں نے حصہ لیا، جن کی بھاری اکثریت نے نیتن یاہو حکومت اور واشنگٹن کی پالیسیوں کو اسرائیل کے مستقبل کے لیے بدترین قرار دیا ہے۔
سروے کے سب سے حیران کن اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت والے روایتی دائیں بازو کے حکومتی اتحاد کے کٹر حامی ووٹروں میں بھی 93.1 فیصد افراد کا پختہ ماننا ہے کہ اس تنازع میں ایران نے ہی کامیابی حاصل کی ہے۔
اس کے علاوہ، 82.9 فیصد شرکاء نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کے خلاف 6 ہفتوں پر مشتمل فوجی مہم اور اس کے بعد اسرائیل کی شمولیت کے بغیر طے پانے والے سفارتی معاہدے نے اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی (Long-term Security) کو شدید حد تک کمزور اور خطرے میں ڈال دیا ہے۔
مجموعی طور پر 86 فیصد افراد نے جنگ کے نتائج اور امریکہ ایران ڈیل کے بارے میں شدید منفی رائے کا اظہار کیا، جبکہ 63.2 فیصد افراد نے اس معاہدے کی واضع مخالفت کی اور محض 12.1 فیصد نے اس کی تائید کی۔
یہ عوامی سروے اسرائیلی سیاسی و عسکری قیادت پر عوام کے گرتے ہوئے اعتماد کی ہولناک کہانی بیان کرتا ہے۔
تقریباً 72.5 فیصد اسرائیلیوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم نیتن یاہو کے ان دعوؤں پر رتی برابر یقین نہیں رکھتے جس میں انہوں نے فوجی مہم کو کامیاب قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے ایک بڑا وجودی خطرہ ختم کر دیا ہے۔
مزید برآں، 56.4 فیصد افراد نے نیتن یاہو کی ذاتی جنگی حکمتِ عملی اور بحران سے نمٹنے کے مجموعی انداز کو مکمل "ناکام یا کمزور” قرار دیا۔
عوام کے غصے کی زد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی آئے، جہاں 69.1 فیصد افراد نے تہران کے خلاف سخت ایکشن نہ لینے اور آخری وقت پر اسرائیل کو ایران پر حملے سے روکنے کی وجہ سے صدر ٹرمپ کی کارکردگی کو بدترین اور ناکام قرار دیا۔
سروے کے دیگر نتائج کے مطابق، 87.8 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ تل ابیب اپنے اعلان کردہ اسٹریٹجک جنگی اہداف حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے یا صرف کچھ معمولی مقاصد حاصل کر سکا۔
جبکہ 61.3 فیصد افراد نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیل حماس اور حزب اللہ کے خلاف اپنے طے شدہ مقاصد میں سے ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا، اور صرف 26.5 فیصد کے مطابق کچھ جزوی کامیابی ملی۔
سیاسی مبصرین اور علاقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج نیتن یاہو حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ اور سفارتی محاذ پر پسپائی کے بعد اب اسرائیلی عوام کا اپنی قیادت کی پالیسیوں پر سے بھروسا مکمل اٹھ چکا ہے، جو مستقبل میں اسرائیل کی داخلی سیاست، قبل از وقت انتخابات اور نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل پر گہرے اور بھیانک اثرات مرتب کرے گا۔

