اسرائیل کے لبنان پر مسلسل حملے؛ ایران نے اسٹریٹجک آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل بند کر دیا

تہران: مشرقِ وسطیٰ کے امن اور عالمی معیشت کو ایک بار پھر شدید دھچکا لگا ہے۔

بدھ کے روز پاکستان اور قطر کی ثالثی میں طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ (Islamabad MoU) کے بعد کھولی جانے والی دنیا کی سب سے اہم تجارتی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو ایران نے دوبارہ مکمل طور پر بند کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک ہنگامی اور مشترکہ عسکری بیان میں ایرانی مسلح افواج کے ‘خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر’ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اسرائیل کو لگام دینے اور لبنان پر حملے رکوانے کی اپنی پہلی اور بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے، اس لیے اس امریکی دھوکا دہی اور وعدہ خلافی کے جواب میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تمام بین الاقوامی بحری جہازوں کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ‘فارس’ کے مطابق، ایران کے مقتدر ترین عسکری ونگ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مقتدر فوجی ذرائع نے بھی اس تزویراتی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہفتے کی صبح سے ہی آبنائے ہرمز کو ہر قسم کے تجارتی، سویلین اور تیل بردار جہازوں کے لیے سیل کر دیا گیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے دنیا بھر کی شپنگ کمپنیوں اور بحری بیڑوں کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کے قریب آنے سے مکمل گریز کریں، بصورتِ دیگر کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا سیکیورٹی خطرات کی ذمہ داری ان پر خود عائد ہوگی۔

خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے اپنے اصرار میں کہا کہ امریکہ نے اسلام آباد ایم او یو کی پہلی شرط (لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی) کی کھلی خلاف ورزی کی ہے؛ یہ بندش ہمارا پہلا قدم ہے اور اگر صیہونی جارحیت برقرار رہی تو واشنگٹن کو وعدوں کی پاسداری پر مجبور کرنے کے لیے مزید کڑے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

یہ اچانک اور سنگین ترین پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بدھ کو اس معاہدے پر دستخط کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی دیکھی جا رہی تھی، تاہم اب اس بندش سے پٹرولیم مصنوعات کا عالمی بحران دوبارہ جنم لے سکتا ہے۔

حیران کن طور پر، اس شدید کشیدگی اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے باوجود، ایران نے سفارتکاری کا دروازہ مکمل بند نہیں کیا ہے اور اسپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ان کا اعلیٰ سطحی وفد 21 جون کو ہونے والے تکنیکی مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکا ہے۔

جنیوا اور برگن اسٹاک میں امریکی صدر کے مشیر جیرڈ کشنر اور ایلچی اسٹیو وٹکوف پہلے ہی ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، جہاں اب ایرانی وفد ان مذاکرات میں امریکہ سے ان کی دھوکا دہی پر سخت باز پرس کرے گا اور معاہدے پر عملدرآمد کا حتمی ٹائم لائن شیڈول مانگے گا۔