اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ ایران تکنیکی مذاکرات 21 جون کو ہوں گے؛ باقر قالیباف اور عباس عراقچی کی قیادت میں اعلیٰ سطحی ایرانی وفد سوئٹزرلینڈ روانہ
جنیوا: پاکستان اور قطر کی کامیاب ترین سفارتکاری کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ (Islamabad MoU) پر دستخطوں کے بعد ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ پاکستان کے مطابق، دونوں ممالک کے مابین معاہدے کی جزئیات اور طے شدہ نکات پر عملدرآمد کی رفتار کا جائزہ لینے کے لیے تکنیکی سطح (Technical Level) کے انتہائی اہم مذاکرات 21 جون بروز اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام اور شہر برگن اسٹاک (Bürgenstock) میں منعقد ہو رہے ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اس پورے امن عمل میں ایک مرکزی اور مخلص ثالث کے طور پر مذاکراتی عمل کو مسلسل سہولت فراہم کرتا رہے گا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی اس اہم ترین پیش رفت کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔
دوسری جانب، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران سے مذاکرات کے لیے چیزیں بالکل درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں اور کل اتوار سے باقاعدہ بات چیت متوقع ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ خود بھی شاید آئندہ دو روز کے اندر سوئٹزرلینڈ کا دورہ کریں گے، جبکہ امریکی صدر کے ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد و مشیر جیرڈ کشنر (Jared Kushner) امریکی وفد کی معاونت کے لیے پہلے سے ہی وہاں موجود ہیں۔
اس اعلیٰ سطحی امریکی وفد کو ملک کے نامور سفارتی، عسکری اور اقتصادی ماہرین کی مدد حاصل ہوگی، جو ایرانی وفد کے ساتھ پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی کے تکنیکی طریقہ کار پر غور کریں گے۔
ادھر تہران میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا ہے کہ ایران کی ایک انتہائی بااختیار ہائی پروفائل ٹیم سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔
اس وفد کی قیادت ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر ہمتّی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب علی باقری، نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی اور نائب وزیرِ تیل حمید بورڈ سمیت ملک کے تمام اعلیٰ اقتصادی اور سیکیورٹی حکام شامل ہیں۔
ایرانی ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ ایرانی وفد مفاہمتی یادداشت کی مکمل پیروی اور اس پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے تمام وعدے پورے کر کے آبنائے ہرمز کو کھول دیا ہے، اب امریکہ کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل کو لبنان پر جاری اپنے بزدلانہ حملے فوری بند کرنے پر مجبور کرے۔
اگر دوسرے فریق نے اپنے وعدوں سے انحراف کیا تو یہ امن سمجھوتہ خطرے میں پڑ جائے گا اور ایران جوابی اقدامات کا پورا حق رکھتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ سے بی بی سی کے نمائندہ خصوصی کے مطابق، الپائن ریزورٹ برگن اسٹاک میں اس وقت بین الاقوامی میڈیا اور امریکی صحافیوں کی آمد کی وجہ سے زبردست گہما گہمی دیکھی جا رہی ہے، تاہم سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی غیر معمولی اور سخت ہیں۔ ریزورٹ سے ایک کلومیٹر پہلے ہی تمام گاڑیوں اور میڈیا کو روک دیا گیا ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تاریخی امن معاہدے کے دوسرے بڑے ثالث، قطر کے وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی جمعہ کو ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں، جبکہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ محسن نقوی اس وقت ایک اہم ترین مشن پر ایران کے شہر مشہد پہنچے ہیں جہاں وہ ایرانی صدر اور اعلیٰ قیادت سے براہِ راست ملاقاتیں کر کے اس 60 روزہ عبوری مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے اور مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام پر زور دے رہے ہیں۔

