اسلام آباد: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی کے بعد اب اس کے مثبت اثرات متبادل توانائی کی مارکیٹ پر بھی آنا شروع ہو گئے ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق، پیٹرول اور ڈیزل سستا ہونے کے فوراً بعد سولر پلیٹس (سولر پینلز) کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹ کے باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف واٹس اور برانڈز کی سولر پلیٹس کی قیمتوں میں 4 ہزار روپے سے لے کر 9 ہزار روپے تک کی بڑی کمی واقع ہو چکی ہے، جس سے گرمی کے اس سیزن میں سولر سسٹم لگوانے کے خواہش مند شہریوں کو ایک بڑا ریلیف ملا ہے۔
مارکیٹ کے ماہرین اور ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی کے باعث لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات کم ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے آئندہ دنوں میں سولر پلیٹس کی قیمتوں میں مزید سستائی متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق، ماضی میں پیٹرولیم مصنوعات کی زائد قیمتوں اور مہنگے ایندھن کی وجہ سے نہ صرف سولر پینلز بلکہ سولر سسٹم میں استعمال ہونے والی بیٹریاں بھی انتہائی مہنگی فروخت ہو رہی تھیں۔
مارکیٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ڈالر اور پیٹرول کے بحران کے دوران ایک سنگل بیٹری کی قیمت میں 27 ہزار سے لے کر 38 ہزار روپے تک کا اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا تھا جس نے خریداروں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔
تاہم، اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نیچے آنے کے بعد مارکیٹ میں پائے جانے والے شدید دباؤ میں کمی آئی ہے اور سولر پلیٹس کے بعد اب بیٹریوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں استحکام برقرار رہا، تو سولر انورٹرز، بیٹریوں اور دیگر متعلقہ آلات کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ میں آ جائیں گی، جس سے ملک میں گرین انرجی یعنی شمسی توانائی کی منتقلی کے عمل کو مزید فروغ ملے گا۔

