وفاقی حکومت کا فیول کنزرویشن اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کرنے کا اعلان

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں ایندھن کی بچت اور انتظامی اخراجات کو کم کرنے کی غرض سے نافذ کیے گئے فیول کنزرویشن اور اضافی کفایت شعاری اقدامات کو فوری طور پر ختم کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی خصوصی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن نے رواں سال 9 مارچ سے نافذ العمل تمام اضافی کفایت شعاری اقدامات کو منسوخ کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

اس تازہ ترین اور اعلیٰ سطحی حکم نامے کے تحت سرکاری سطح پر ایندھن کی بچت کے لیے اٹھائے گئے سخت اقدامات کو واپس لے لیا گیا ہے، جس کے بعد اب سرکاری ملازمین کے لیے جمعہ کی ہفتہ وار خصوصی چھٹی کو ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ سرکاری افسران کو پیٹرول کا پورا کوٹہ اور 60 فیصد سرکاری گاڑیاں دوبارہ بلا روک ٹوک استعمال کرنے کی باقاعدہ اجازت مل گئی ہے۔

کابینہ ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، سرکاری شعبے میں رعایتوں کی بحالی کے باوجود تجارتی مراکز، بازاروں اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے اوقاتِ کار کی سابقہ پابندیاں بدستور اور سختی سے برقرار رہیں گی۔

نئے نوٹیفکیشن کے تحت ملک بھر میں تمام دکانیں، جنرل اسٹورز، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز ہر حال میں رات 9 بجے بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح، شادی ہالز اور دیگر تمام تقریبات کے مقامات کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر سمیٹنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ ریستوران، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے تک اپنا کاروبار کھلا رکھ سکیں گے۔

تاہم، عوام کی سہولت کے لیے فوڈ آؤٹ لیٹس سے ٹیک اوے (Takeaway) اور ہوم ڈیلیوری سروسز کو اس سفری و کاروباری پابندی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہو گا۔

نوٹیفکیشن میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ عوامی فلاح اور ہنگامی ضرورت کی حامل کئی اہم ترین صنعتیں اور دکانیں اوقاتِ کار کی اس پابندی سے بالکل آزاد ہوں گی۔

ان مستثنیٰ شعبوں میں میڈیکل اسٹورز (فارمیسیز)، اسپتال، کلینکس، لیبارٹریز، پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز، الیکٹرک وہیکل چارجنگ پوائنٹس، بیکریاں، دودھ کی دکانیں اور تندور شامل ہیں، جو معمول کے مطابق کھلے رہ سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی آئی ٹی (IT) کمپنیز، کال سینٹرز، جیمز اور اسپورٹس کلبوں کو بھی چوبیس گھنٹے کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

حکام نے واضع کیا ہے کہ 9 مارچ 2026 سے قبل نافذ العمل دیگر بنیادی کفایت شعاری اقدامات بدستور لاگو رہیں گے اور صوبائی و وفاقی انتظامیہ کو ان کاروباری اوقات پر سخت عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔