9 مئی کا ایک اور بڑا فیصلہ؛ ڈاکٹر یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید کی سزا
لاہور: لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات اور ہنگامہ آرائی سے جڑے ایک اور اہم مقدمے کا بڑا فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کو سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے معزز جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قائم خصوصی عدالت میں اس مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔
عدالت نے 9 مئی کو لاہور کے علاقے مغلپورہ میں پولیس کی گاڑیاں جلانے اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے کے جرم میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو جرم ثابت ہونے پر 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی ہے۔
دوسری جانب، عدالت نے اسی کیس میں نامزد پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین اور سابق وزیرِ خارجہ مہم شاہ محمود قریشی کو عدمِ شواہد کی بنا پر مقدمے سے باقاعدہ بری کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق، مغلپورہ پولیس گاڑیاں جلانے کے اس حساس مقدمے کا ٹرائل کوٹ لکھپت جیل کے اندر ہی مکمل کیا گیا تھا، جہاں جج منظر علی گل نے طویل سماعتوں کے بعد 15 ملزمان کے حوالے سے حتمی فیصلہ صادر کیا۔
اس مقدمے میں ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت مجموعی طور پر 22 ملزمان کے خلاف پولیس کی جانب سے چالان جمع کروایا گیا تھا۔
ٹرائل کے دوران پراسکیوشن (سرکاری استغاثہ) کی طرف سے پیش کیے گئے تمام 37 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور ان پر وکلا کی جرح مکمل کی گئی، جس کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ مذکورہ چاروں مرکزی رہنماؤں پر جلاؤ گھیراؤ کی دفعات درست ثابت ہوتی ہیں۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں یہ بھی بتایا کہ دورانِ ٹرائل مستقل غیر حاضری اور قانون سے مفرور رہنے پر دو ملزمان کو باقاعدہ اشتہاری قرار دیا گیا ہے، جن میں ملزم ارباز زمان اور الٰہی بخش شامل ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کے تناظر میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو سنائی جانے والی یہ سزائیں سیاسی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کریں گی، تاہم تحریکِ انصاف کے وکلا نے اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت (لاہور ہائی کورٹ) میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب، شاہ محمود قریشی کی بریت کو ان کے قانونی دفاع کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، اگرچہ وہ دیگر مقدمات کے باعث اب بھی حراست میں ہیں۔

