بنوں میں سڑک کنارے نصب بم کے دو ہولناک دھماکے؛ مسافر گاڑی اور امدادی کارکنوں سمیت 7 افراد جاں بحق، بچوں سمیت 3 زخمی
بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں دہشت گردی اور تخریب کاری کا ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں سڑک کنارے نصب بارودی مواد کے دو یکے بعد دیگرے دھماکوں کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور کمسن بچوں سمیت 3 افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، ضلع بنوں کی تحصیل ڈومیل کے علاقوں ‘مرکہ بیرا’ اور ‘پینگ’ کے درمیانی روڈ پر دہشت گردوں کی جانب سے سڑک کنارے آئی ای ڈی (IED) بم نصب کیا گیا تھا۔ ابتدائی دھماکا اس وقت ہوا جب گاؤں ہاتھی خیل سے مسافروں کو لے کر بنوں شہر آنے والی ایک مسافر ڈاٹسن وین اس بارودی مواد کی زد میں آ گئی۔
اس پہلے دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس میں سوار 5 مسافر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) بنوں یاسر آفریدی کے مطابق، پہلے دھماکے کے فوری بعد جب مقامی لوگ اور امدادی رضاکار جائے وقوعہ پر پہنچے اور ریسکیو کا کام شروع کیا، تو کچھ ہی دیر بعد وہاں ایک اور زوردار دھماکا ہو گیا۔
اس دوسرے بم دھماکے کی زد میں آ کر امدادی کارروائیوں میں مصروف 2 مقامی افراد بھی موقع پر جاں بحق ہو گئے، جس سے کل اموات کی تعداد 7 تک پہنچ گئی۔
حکام نے بتایا کہ اس دوسرے دھماکے کی وجہ سے وہاں سے گزرنے والی تحصیلدار سب ڈویژن وزیر عابد اللہ کی گاڑی بھی شدید متاثر ہوئی اور اسے نقصان پہنچا، تاہم خوش قسمتی سے تحصیلدار عابد اللہ اس حملے میں بالکل محفوظ رہے۔
بنوں اسپتال انتظامیہ کے مطابق، دھماکے کی اطلاع ملتے ہی لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر ‘خلیفہ گلنواز ٹیچنگ اسپتال’ منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی جانب سے زخمیوں کو ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ زخمی ہونے والے 3 افراد میں کمسن بچے بھی شامل ہیں جن کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور شواہد اکٹھے کر کے دہشت گردوں کی تلاش کے لیے پینگ اور ہاتھی خیل کے اطراف کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

