اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے ملک کی سلامتی اور سفارتی تزویراتی حکمتِ عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارتی طیاروں کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے پر عائد پابندی میں ایک بار پھر طویل توسیع کر دی ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ فضائی اعلامیے یعنی ‘نوٹم’ (NOTAM) کے مطابق، بھارتی ہوائی جہازوں پر یہ سخت سفارتی و دفاعی پابندی 16 جون کی شام 5 بج کر 50 منٹ سے باقاعدہ لاگو ہو چکی ہے، جو کہ 24 جولائی کی صبح 4 بج کر 59 منٹ تک مکمل طور پر نافذ العمل رہے گی۔
حکومت کے اس سخت فیصلے کے بعد اب ایئر انڈیا سمیت بھارت کی تمام سول ائیرلائنز اور عسکری طیارے اس مقررہ مدت تک پاکستانی حدود سے گزرنے کی مجاز نہیں ہوں گی، جس کے باعث بھارتی پروازوں کو اب طویل متبادل راستے اختیار کرنے پڑیں گے۔
سیکیورٹی ذرائع اور حکام کے مطابق، پاکستان نے بھارتی سول و فوجی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند رکھنے کا فیصلہ خطے کی موجودہ نازک صورتحال اور ملکی دفاع کو یقینی بنانے کے لیے برقرار رکھا ہے۔
پی اے اے کے نوٹم میں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ کسی بھی بھارتی طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخلے یا یہاں سے گزرنے (Overflying) کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔
ماہرینِ ہوا بازی کا کہنا ہے کہ اس سفارتی اقدام سے بھارتی فضائی کمپنیوں کو فیول (ایندھن) اور وقت کے لحاظ سے کروڑوں روپے کے اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ پاکستان نے اپنی خودمختاری اور دفاعی لائنز پر سمجھوتہ نہ کرنے کا یہ واضح پیغام پڑوسی ملک کو پہنچا دیا ہے کہ جب تک بنیادی تصفیے حل نہیں ہوتے، فضائی حدود کی بحالی ممکن نہیں ہوگی۔

