چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات؛ بجٹ امور، آزاد کشمیر کی صورتحال اور ملکی سیاست پر تفصیلی مشاورت
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کا دورہ کیا اور وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سے ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی و انتظامی صورتحال، نئے وفاقی بجٹ کے امور، آزاد جموں و کشمیر کے تازہ ترین حالات اور باہمی دلچسپی کے اہم قومی موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس ہائی پروفائل ملاقات میں دونوں جماعتوں کے مرکزی رہنما بھی شامل تھے؛ پیپلز پارٹی کے وفد میں سینیٹر شیری رحمان اور نوید قمر شامل تھے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وفاقی وزرا اسحاق ڈار، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب خان، اعظم نذیر تارڑ اور احد چیمہ نے شرکت کی۔
ملاقات میں گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کے نئے شیڈول اور وہاں حکومت سازی کے عمل کے حوالے سے بھی تفصیلی سیاسی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا گیا۔
ملاقات کا ایک اہم ترین مرکز مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال اور امریکہ و ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے میں پاکستان کا کلیدی سفارتی کردار رہا۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کم کرنے اور دونوں عالمی حریفوں کو جنیوا کے بجائے سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی ریزورٹ برگن اسٹاک میں دستخط کی میز تک لانے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔
بلاول بھٹو نے عالمی امن کے اس تاریخی مشن کی کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کامیاب ثالثی سے بین الاقوامی برادری اور برطانوی پارلیمنٹ جیسے معتبر فورمز پر پاکستان کا سفارتی وقار بلند ہوا ہے۔
اس کے ساتھ ہی، پی پی پی چیئرمین نے گلگت بلتستان میں نئی حکومت سازی کے نازک مرحلے پر مسلم لیگ (ن) کی جانب سے فراہم کی جانے والی بھرپور سیاسی حمایت پر وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کی مالی معاونت سے صوبہ سندھ میں جاری متعدد بڑے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کا تفصیلی جائزہ بھی لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ وفاق اور تمام اکائیوں (صوبوں) کے درمیان مؤثر رابطہ کاری، ہم آہنگی اور باہمی تعاون کا فروغ ملکی معیشت کی بحالی اور پائیدار قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ عوام کو زندگی کی بہتر اور جدید ترین بنیادی سہولیات فراہم کرنے اور قومی اہمیت کے حامل بڑے منصوبوں کو شفافیت کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان قریبی اور مضبوط ورکنگ ریلیشن شپ کو ہر حال میں جاری رکھا جائے گا۔

