سندھ کا مالی سال 2026-27 کے لیے بجٹ پیش؛ تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ، کم از کم اجرت 43 ہزار مقرر

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں مالی سال 2026-27 کا صوبائی بجٹ پیش کر دیا ہے۔ اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت منعقدہ اس اجلاس کے آغاز پر ہی اپوزیشن اور ایم کیو ایم (MQM) کے ارکان نے شور شرابہ کیا اور نشستوں پر کھڑے ہو کر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا، جس پر اسپیکر نے ارکان کو سنجیدگی مظاہرہ کرنے کی سخت ہدایت کی۔

مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل گیارہواں اور مجموعی طور پر 13 واں بجٹ پیش کرنا ان کے لیے ایک اعزاز اور بڑی ذمہ داری ہے، کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی منتخب عوامی نمائندے کو مسلسل اتنی بار بجٹ پیش کرنے کا موقع نہیں ملا۔

انہوں نے اپنے والدین اور پیپلز پارٹی کی قیادت بالخصوص چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے عوام دوست وژن کو اپنی ترجیحات کا محور قرار دیا۔ انہوں نے پاک افواج کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ایران بحران میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے فعال سفارتی کردار کو بھی سراہا۔

صوبائی بجٹ میں غریب اور تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری ملازمین کے ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022ء اور 2025ء کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ صوبے میں مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے تجارتی برادری کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں کوئی بھی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جبکہ تعلیمی معاونتی خدمات پر سیلز ٹیکس کو کم کر کے 5 فیصد اور زرعی سپر ٹیکس کی شرح کو 10 فیصد سے گھٹا کر 8 فیصد کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ نے آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت قومی استحکام اور وفاق کی معاونت کے لیے 260 ارب روپے کے انتظامات پر اتفاق کیا ہے، لیکن اس بڑی قومی معاونت کے باوجود سندھ حکومت نے این ایف سی (NFC) ایوارڈ کے تحت اپنے آئینی حقوق اور ترقیاتی ترجیحات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق، سندھ کے ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 656 ارب روپے سے زائد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں صوبائی ترقیاتی پروگرام (ADP) کے لیے 641 ارب اور ضلعی اسکیموں کے لیے 15 ارب روپے شامل ہیں۔ حکومت نے اس سال بجٹ میں کسی بھی نئی اسکیم کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جاری 3,715 ترقیاتی منصوبوں کو جلد مکمل کیا جا سکے۔

شعبہ تعلیم کے لیے مجموعی ترقیاتی پروگرام میں 50.12 ارب روپے (جبکہ معلوماتی خدمات و دیگر امور کے لیے الگ سے 25.9 ارب) مختص کیے گئے ہیں، جس میں اسکول ایجوکیشن کے لیے 38.21 ارب روپے شامل ہیں۔ اسی طرح صحت کے شعبے کے لیے 38.89 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، جس کے تحت این آئی سی وی ڈی (NICVD)، ایس آئی یو ٹی (SIUT) اور جے پی ایم سی (JPMC) کی مفت خدمات کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

کسانوں کے لیے بینظیر ہاری کارڈ، کچن گارڈن اور انشورنس جیسے سوشل پروٹیکشن پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں، جبکہ متوسط طبقے کے لیے 18 ارب روپے کی لاگت سے 2 لاکھ 75 ہزار مفت سولر ہوم سسٹمز تقسیم کرنے کا اعلان بھی بجٹ کا حصہ ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے معاشی مستقبل کو تابناک بنانے کے لیے کثیر جہتی اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کراچی میں ‘سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر’ (SIFC) بنانے کا اعلان کیا جو انفراسٹرکچر فنانس، اسلامک فنانس اور کلائمیٹ فنانس کا بڑا علاقائی مرکز بنے گا۔

اس کے علاوہ کراچی اور حیدرآباد کے اطراف ‘گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر انیشیٹو’ اور ‘اے آئی (AI) اکانومی’ کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ کراچی کے میگا پراجیکٹس کے لیے بجٹ میں 14 ارب 11 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت شہر کے 25 بڑے جاری منصوبوں پر کام تیز کیا جائے گا۔

کراچی میں ٹرانسپورٹ کی سہولت کے لیے ریڈ لائن بی آر ٹی (Red Line BRT) کے لیے 13.2 ارب روپے اور یلو لائن کوریڈور کے لیے 3.5 ارب روپے سے زائد رقم رکھی گئی ہے۔

انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ایئرپورٹ روڈ پر 1.2 ارب کا نیا فلائی اوور، ملیر ہالٹ پر 1.5 ارب کا انڈرپاس اور گجر نالہ کراسنگ فلائی اوور کے لیے 1.65 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

خیابانِ اتحاد اور خیابانِ شہباز پر 2 نئے انڈرپاسز تعمیر ہوں گے، جبکہ امن و امان کے لیے ‘سندھ سیف سٹیز پراجیکٹ’ کے تحت چہرہ شناس اور نمبر پلیٹ شناختی ٹیکنالوجی والے 1325 اسمارٹ کیمرے فعال کیے جا چکے ہیں، جس کی بدولت کراچی میں گاڑیوں کی چوری میں 67 فیصد اور اسٹریٹ کرائم میں 54 فیصد نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔