وائٹ ہاؤس پر ڈرون حملے اور قتلِ عام کی ہولناک سازش ناکام؛ امریکا کے 250ویں یومِ آزادی اور ٹرمپ کی 80ویں سالگرہ کی تقریب نشانہ تھی

واشنگٹن: امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی (FBI) اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اعلیٰ اداروں نے دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس پر دھماکا خیز مواد سے لیس ڈرونز، اسنائپرز اور مسلح دھاوے کے ذریعے بڑے پیمانے پر قتلِ عام کی ایک انتہائی ہولناک اور منظم دہشت گردانہ سازش کو عین وقت پر ناکام بنا دیا ہے۔

امریکی نشریاتی اداروں کے مطابق، اس خوفناک حملے کا نشانہ وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں منعقد ہونے والا ‘UFC فریڈم 250’ ایونٹ تھا، جو امریکا کے 250 ویں یومِ آزادی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ کے مشترکہ جشن کا حصہ تھا۔

اس ہائی پروفائل تقریب میں ہزاروں کی تعداد میں اعلیٰ ملکی و بین الاقوامی سیاست دان، ارب پتی کاروباری شخصیات اور نامور سماجی اشرافیہ شریک تھی۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ گھناؤنا منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو یہ حالیہ تاریخ کا امریکی دارالحکومت پر ہونے والا سب سے بڑا اور خونریز ترین حملہ ثابت ہو سکتا تھا، تاہم فورسز نے بروقت ایکشن لے کر ملک کو بڑے سانحے سے بچا لیا۔

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق، اس خوفناک سازش کا باقاعدہ انکشاف 10 جون کو اس وقت ہوا جب ایک مشتبہ شخص کے اپنے ہی اہل خانہ نے اس کی مشکوک سرگرمیوں سے متعلق ایف بی آئی کو خفیہ اطلاع فراہم کی۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری متحرک ہو کر تکنیکی تفتیش کا آغاز کیا اور مشتبہ افراد کے موبائل فونز سمیت خفیہ پیغام رسانی کی مشہور ایپلی کیشن "سگنل” (Signal App) پر ہونے والی تمام گفتگو اور ڈیجیٹل نقشوں تک رسائی حاصل کر لی، جہاں حملے کی منصوبہ بندی کے ناقابلِ تردید شواہد ملے۔

تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ نیٹ ورک کے بعض اہم کارندے 12 اور 13 جون کو ریاست ورجینیا کے شہر فریڈرکسبرگ میں ایک خفیہ ٹھکانے پر جمع ہونے والے تھے تاکہ حملے کی حتمی تیاریوں اور بارود کی منتقلی کو حتمی شکل دی جا سکے، جس کے بعد امریکی فورسز نے متعدد ریاستوں میں بیک وقت چھاپے مار کر کریک ڈاؤن شروع کیا۔

تحقیقاتی اداروں نے ملزمان کے خطرناک پلاننگ کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انتہا پسند اور شدید حکومت مخالف نظریات رکھنے والے ان حملہ آوروں کا منصوبہ کثیر الجہتی تھا۔

پہلے مرحلے میں دھماکا خیز مواد سے بھرے متعدد ڈرونز کے ذریعے تقریب کے ارد گرد موجود بلند و بالا عمارتوں کو نشانہ بنایا جانا تھا تاکہ شدید دھماکوں سے وی آئی پی تقریب اور وہاں موجود ہزاروں کے ہجوم میں افراتفری اور بھگدڑ مچ جائے۔

دوسرے مرحلے میں، بھگدڑ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اطراف میں پہلے سے پوزیشن سنبھالے ہوئے اسنائپرز بھاگتے ہوئے لوگوں پر اندھا دھند گولیاں برساتے۔ جبکہ منصوبے کے آخری اور تیسرے مرحلے میں مسلح دہشت گردوں نے وائٹ ہاؤس کے مرکزی داخلی دروازوں پر دھاوا بول کر اندر داخل ہونا تھا۔

گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے ممکنہ اہداف وہ امریکی سیاست دان اور ارب پتی شخصیات تھیں جنہیں وہ امریکی اشرافیہ یا امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) کے کٹر حامی سمجھتے تھے۔

ایف بی آئی کے نو منتخب ڈائریکٹر کاش پٹیل نے میڈیا کو جاری ایک اہم بیان میں تصدیق کی ہے کہ سکیورٹی ایجنسیوں کی دن رات کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں ملک دشمنوں کے عزائم کو مکمل طور پر خاک میں ملا دیا گیا ہے۔

اب تک کی کارروائیوں میں 5 اہم ترین مشتبہ ملزمان کو باقاعدہ حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 23 سے زائد افراد کو اس سازش کا حصہ قرار دے کر ان کے خلاف بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

اگرچہ ایف بی آئی نے تاحال گرفتار ملزمان کی قومیت اور مکمل شناخت کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پکڑے گئے ایک مرکزی ملزم کی شناخت 19 سالہ ٹائسن پراپر کے نام سے ہوئی ہے۔

ڈائریکٹر کاش پٹیل کا کہنا ہے کہ تفتیش ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور عدالتی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی مزید تفصیلات پبلک کی جائیں گی، جبکہ نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔