ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تاریخی امن معاہدے (مفاہمتی یادداشت) پر باقاعدہ دستخط کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر ایک اہم ترین بیان جاری کیا ہے۔
ایرانی صدر نے واضح کیا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کا بنیادی مقصد یہ جانچنا اور پرکھنا ہے کہ آیا امریکہ واقعی ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرنے اور اپنے وعدوں کو نبھانے کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کئی ماہ پر محیط طویل اور تفصیلی سفارتی مذاکرات کے بعد ایرانی پارلیمنٹ (مجلسِ شورائے اسلامی) کے اراکین کی بھاری اکثریت نے اس معاہدے کے متن کی مکمل حمایت کی ہے، تاکہ عملی طور پر امریکی رویے کا امتحان لیا جا سکے۔
صدر مسعود پزشکیان نے اس تاریخی پیش رفت میں ایرانی قیادت کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ معاہدے کی تیاری کے دوران ایران کے سپریم لیڈر (رہبرِ معظم) آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے قومی مفادات اور ملکی خودمختاری کے تحفظ سے متعلق سخت ترین شقوں کی شمولیت میں سب سے کلیدی اور اہم ترین کردار ادا کیا ہے، جس کی بدولت ایران کے بنیادی حقوق کو اس دستاویز کا مرکزی حصہ بنایا گیا۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے میں طویل جنگ کے خاتمے، کشیدگی میں کمی اور دونوں ممالک کے درمیان بامعنی و باضابطہ مذاکرات کے آغاز کی جانب ایک سنگِ میل ہے۔ اگر اس معاہدے کی تمام شقوں پر منصفانہ اور مکمل عملدرآمد کیا گیا تو یہ ایران کے لیے ایک انتہائی قابلِ فخر اور کامیاب دستاویز ثابت ہو سکتی ہے۔
اپنے بیان میں ایرانی صدر نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کسی بھی ایسے اقدام کو ہرگز قبول نہیں کرے گا جو اس کے بنیادی حقوق، پرامن جوہری پروگرام، اقتصادی مفادات یا قومی سلامتی کو متاثر کرے، اور تہران نے خود کو تمام ممکنہ حالات، نتائج اور آپشنز سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انہوں نے خود، جبکہ ایران کی جانب سے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کر دیے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے پر باقاعدہ دستخطوں کی تقریب آنے والے جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ (جنیوا) میں منعقد ہو گی اور اسی روز سے عالمی تجارت کے لیے اہم ترین سمندری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کو بھی بحری جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔

