تاریخی امریکہ ایران امن معاہدے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے دستخط، ایم او یو کی تصدیق
امریکہ اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد بالاخر ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے جنگ بندی کے معاہدے (ایم او یو) پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے اور وائٹ ہاؤس کے سینئر حکام کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ روز ڈیجیٹل طور پر اس تاریخی مسودے پر دستخط کیے۔
دوسری جانب ایران کی نمائندگی کرتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس تاریخی امن معاہدے کی مکمل تفصیلات اور متن آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں باقاعدہ طور پر جاری کر دیا جائے گا، جبکہ رواں ہفتے کے آخر میں دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی نوعیت کی بات چیت کا آغاز بھی ہونے جا رہا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی 7 اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچے ہیں، جہاں انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئیل میکرون سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس ڈیل کی باقاعدہ تصدیق کی۔
صدر ٹرمپ نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے بعد اب ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے اور تہران نے جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے دنیا بھر کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ پہلے ہی جزوی طور پر کھل چکی ہے اور رواں ہفتے جمعہ تک اسے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ اس بڑی پیش رفت کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مسلسل کم ہو رہی ہیں جبکہ اسٹارک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
معاہدے کی شرائط پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر اور نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ یہ ایک مرحلہ وار تصدیقی عمل ہوگا اور اس پر عمل درآمد کی سخت ترین نگرانی کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کو پابندیوں میں ریلیف اور اس کے منجمد اثاثوں کی بحالی صرف اسی صورت میں ملے گی جب وہ معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عمل کرے گا، یہ مکمل طور پر ایران کے رویے کی تبدیلی سے مشروط ہے۔ اگر ایران نے شرائط پوری نہ کیں تو ہم دوبارہ اسی پوزیشن پر واپس چلے جائیں جہاں سے آغاز ہوا تھا۔
دوسری جانب امریکی حکام اور تجزیہ کاروں میں اس بات پر بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ معاہدے میں ایرانی سپریم لیڈر یا اعلیٰ ترین انتظامی قیادت کے بجائے اسپیکر باقر قالیباف کے دستخط کی قانونی حیثیت کیا ہوگی، تاہم جے ڈی وینس کے مطابق جنیوا میں ہونے والی باقاعدہ دستخطی تقریب میں باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام کی شرکت متوقع ہے۔
فرانس نے بھی آبنائے ہرمز کے معاملے میں سیکیورٹی مدد کی پیشکش کی ہے، جبکہ تہران عمان اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر اس سمندری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

