فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک میں دستاویزی معیشت کو فروغ دینے اور ٹیکس چوری کے سدِ باب کے لیے ڈیجیٹل نظام کا حصہ نہ بننے والے کاروباری طبقے اور تاجروں کے خلاف انتہائی سخت تادیبی کارروائیوں اور بھاری جرمانوں کی تجویز دے دی ہے۔
نئے فنانس بل کے مطابق، ایسے تمام کاروبار جو مقررہ قانونی معیارات کے تحت اپنے کاروباری لین دین کا ڈیجیٹل انٹیگریشن (Digital Integration) کرنے میں ناکام رہیں گے، ان پر ابتدائی طور پر 10 لاکھ روپے تک کا بھاری جرمانہ عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
فنانس بل کی دستاویزات کے مطابق، یہ قوانین انتہائی سخت بنائے جا رہے ہیں۔ اگر کوئی کاروباری ادارہ مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود ڈیجیٹل نظام کے ساتھ خود کو منسلک نہیں کرتا، تو نہ صرف اس کا کاروبار اور دکانیں مستقل طور پر سیل (بند) کی جا سکیں گی، بلکہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں ان پر 50 لاکھ روپے تک کا دوسرا بھاری جرمانہ عائد کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے کاروباروں کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لانا اور معیشت کو ڈیجیٹلائز کرنا ہے۔
اس کے علاوہ، ایف بی آر نے مارکیٹ میں جاری جعلی اور فرضی ٹیکس انوائسز کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف بھی گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی تجاویز کے تحت، جو بھی شخص یا سپلائر جعلی انوائس جاری کرتا ہوا پکڑا گیا، اس پر اس انوائس کی مکمل مالیت کے برابر (100 فیصد) جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ جعلی انوائس جاری کرنے والے سپلائرز سے مال خریدنے والے خریدار بھی اس قانونی کارروائی کی زد میں آئیں گے اور ان کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے گا۔
فنانس بل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی کاروبار کے ان پٹ ٹیکس (Input Tax) اور آؤٹ پٹ ٹیکس (Output Tax) کے اعدادوشمار میں کوئی بھی فرق یا ہیرا پھیری ثابت ہوتی ہے، تو اس پر بھی 20 فیصد جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
مزید برآں، غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے ٹیکس کریڈٹ کو 60 دنوں کے اندر واپس نہ کرنے کی صورت میں کاروباروں پر 20 فیصد اضافی جرمانہ لاگو کرنے کی بھی سخت تجویز دی گئی ہے۔
ایف بی آر حکام کو امید ہے کہ ان سخت سزاؤں اور جرمانوں کی منظوری کے بعد ملک میں ٹیکس چوری کا خاتمہ ہوگا اور ریونیو کی وصولی میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

