امریکی میڈیا نے ایک حیران کن دعوے میں کہا ہے کہ ایران نے اپنی زیرِ زمین جوہری تنصیبات، جہاں انتہائی افزودہ یورینیم محفوظ کیا گیا ہے، کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے اور ان تک پہنچنے کے تمام راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کر دی ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ نے امریکی انٹیلی جنس سے واقف ذرائع کے حوالے سے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران نے حالیہ ہفتوں کے دوران اپنے جوہری اثاثوں اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ممکنہ بیرونی حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے غیر معمولی اور انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔
ان اقدامات میں بعض اہم زیرِ زمین سرنگوں کو مستقل طور پر بند یا منہدم کرنا اور ان کے مرکزی داخلی راستوں کو بارودی سرنگوں سے لیس کرنا شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان انتہائی اقدامات کے بعد اب تقریباً نصف ٹن (500 کلوگرام) انتہائی افزودہ یورینیم تک رسائی حاصل کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل، پُرخطر اور وقت طلب ہو چکا ہے۔
بین الاقوامی برادری اور انٹیلی جنس اداروں کے اندازوں کے مطابق اس قیمتی اور حساس ذخیرے کا ایک بہت بڑا حصہ وسطی ایران میں واقع اصفہان کی جوہری تنصیب کے قریب زیرِ زمین منہدم شدہ سرنگوں میں انتہائی گہرائی میں موجود ہے، جبکہ یورینیم کی کچھ مقدار کو دیگر خفیہ اور محفوظ مقامات پر بھی منتقل کیا جا چکا ہے۔
انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ مئی کے وسط میں امریکی فوج اس جوہری مواد پر قبضے کے لیے ایک ممکنہ زمینی آپریشن کے لیے مکمل تیار تھی، تاہم اس منصوبے کو انتہائی پُرخطر اور پیچیدہ قرار دے کر مؤخر کر دیا گیا تھا جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کارروائی سے پیچھے ہٹ گئے۔
سی این این کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی آپریشن کے اس منصوبے کی بھنک لگتے ہی ایران نے اپنی جوہری تنصیبات اور ذخائر کے تحفظ کو مزید فول پروف بنا دیا ہے، جس سے مستقبل میں کسی بھی ممکنہ فوجی یا انٹیلی جنس کارروائی کی پیچیدگی اور خطرات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی حکومت نے اس امریکی رپورٹ پر اب تک کوئی باضابطہ ردعمل یا تصدیق جاری نہیں کی ہے، تاہم تہران میں حکام ماضی میں متعدد بار اپنے جوہری اثاثوں کی حفاظت، ملکی دفاع اور کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی مکمل دفاعی تیاریوں کا عزم ظاہر کرتے رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو ایران کے جوہری ذخائر تک رسائی حاصل کرنا اب کسی بھی عالمی قوت کے لیے ایک ناپید اور ناممکن چیلنج بن چکا ہے۔

